رسائی کے لنکس

پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی توقع: امریکی سفیر


پاکستان اور امریکہ کے درمیان رابطوں کے فروغ اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کے لیے اسلام آباد میں ’ٹریک ٹو‘ سطح کے مذاکرات کا ایک دور ہوا۔

ان مذاکرات کے افتتاحی اجلاس سے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف اور امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے بھی خطاب کیا۔

اس بات چیت کا اہتمام ایک غیر سرکاری ادارے ’ریجنل پیس انسٹیٹویٹ‘ نے کیا تھا۔

سفیر ڈیوڈ ہیل نے اپنی تقریر میں کہا کہ جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی کا ایک پہلو افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا بھی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان پر اس وقت تک دباؤ ڈالا جاتا رہے گا جب تک وہ تشدد کی راہ ترک کر کے افغان حکومت سے بات چیت نہیں کرتے۔

اُنھوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت پاکستان سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بہت قربانیاں دیں اور جنوبی ایشیا میں القاعدہ اور داعش کے خلاف بطور صف اول کے ملک کے کوششیں کی۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم ایسی ہی کارروائی حقانی نیٹ ورک سمیت اُن تمام گروپوں کے خلاف بھی کرنے کا کہہ رہے ہیں جو پاکستان میں موجود ہیں اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرس نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر واضح کیا تھا کہ پاک امریکہ تعلقات نازک موڑ پر ہیں۔

سفیر ڈیوڈ ہیل کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے تعاون کے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو ہم پھر صورت حال کے مطابق کارروائی کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ باہمی تعاون سے دونوں ملک بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

تقریب میں شرکت کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ’’ہم قطعی طور پر اس سے انکار کرتے ہیں۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’’امریکہ کے ساتھ جو گفتگو ہو رہی ہے یا جو ڈائیلاگ ہو رہا ہے وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ اعتماد کا فقدان آج بھی ہے جس کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خواہش ضرور پائی جاتی ہے دونوں اطراف سے کہ یہ اعتماد کی فضا بحال ہو اور اتفاق رائے کی طرف ہم گامزن ہو سکیں۔‘‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورے کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔

’’مستقبل قریب میں مزید اعلٰی سطحی روابط بھی ہوں گے۔۔۔ جس طرح میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ ہمارا مقصد ایک ہے اور وہ مقصد افغانستان میں امن ہے تو میرا خیال ہے کہ گفتگو کے ذریعے رائے ایک ہو سکتی ہے۔۔۔ الزام تراشی کی بجائے ہمیں (تعاون کے) راستے اختیار کرنے چاہیئں۔‘‘

اُنھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ٹریک ٹو سطح کے مذاکرات سے بہتر راہیں نکلیں گی۔

اُدھر امریکہ کی سابق سفارت کار رابن رافیل پیر کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور اُن کے بقول پاکستان برابری کی سطح پر امریکہ سے تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG