رسائی کے لنکس

اعلیٰ امریکی عہدیدار لیزا کرٹس کے پاکستانی حکام سے مذاکرات


گزشتہ جمعے کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ دوطرفہ طویل المدت تعلقات کے باوجود اُن کے بقول امریکہ پاکستان سے دور جا رہا ہے۔

امریکی حکومت کی ایک اعلیٰ عہدیدار لیزا کرٹس پاکستان میں ہیں جہاں اُنھوں نے پیر کو پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے وفود کی سطح پر بات چیت کی ہے۔

لیزا کرٹس امریکہ کی قومی سلامتی کونسل میں سینئر ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا ہیں۔

دہشت گردی سے نمٹنے اور پاکستان میں افغان طالبان و حقانی نیٹ ورک کی مبینہ پناہ گاہوں کی موجودگی پر دونوں ملکوں کے مؤقف میں اب بھی دوریاں ہیں اور یہ معاملہ دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کا سبب بنا ہوا ہے۔

گزشتہ جمعے کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ دوطرفہ طویل المدت تعلقات کے باوجود اُن کے بقول امریکہ پاکستان سے دور جا رہا ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے حالیہ مہیںوں میں کیے جانے والے کئی یک طرفہ فیصلوں سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہوئے ہیں اور ترجمان کے بقول اب امریکہ کو آگے بڑھ کر اعتماد بحال کرنا ہو گا۔

محمد فیصل نے کہا تھا کہ ’’ہم نے واضح طور پر امریکہ کو بتا دیا ہے کہ صرف باہمی اعتماد اور احترام کی فضا میں دوطرفہ تعلقات آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔

’’پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پیچیدہ ضرور رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں تو ہمیشہ سے کوشش یہی ہوتی رہی ہے کہ جو غلط فہمیاں ہیں اور دوریاں ہیں ان کو ختم کیا جائے اور ظاہر ہے کہ غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے رابطوں کی ضرورت ہوتی ہے اور رابطے ہر سطح کے اوپر رہے ہیں۔‘‘

گزشتہ ماہ امریکہ کی نائب معاون وزیرِ خارجہ برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور، ایلس ویلز نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا جس میں اُنھوں نے ایک بار پھر حکومتِ پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے مسئلہ پر توجہ دے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے اپنی سرزمین پر سے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گروہوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور یہ کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سرحد پار ان افغان علاقوں میں موجود ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے آغاز پر اپنی پہلی ہی ٹوئٹ میں پاکستان سے متعلق سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے ملک نے پاکستان کو گزشتہ 15 برسوں میں 33 ارب ڈالر بطور امداد فراہم کیے جس کے بدلے اُن کے بقول پاکستان سے امریکہ کو صرف ’’دھو کہ اور جھوٹ ہی ملا۔‘‘

اس ٹوئٹ کے بعد امریکہ نے پاکستان کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی امداد بھی معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

اس صورتِ حال میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے جسے دور کرنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس عرصے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیرِ دفاع جم میٹس بھی پاکستان کے دورے کر چکے ہیں اور اُن کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے۔

XS
SM
MD
LG