رسائی کے لنکس

logo-print

یمن کی صورت حال پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب


وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں سعودی عرب کا دورہ کر کے واپس آنے والے پاکستانی وفد نے اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے یمن کی صورت حال پر مشاورت کے لیے چھ اپریل کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں جمعرات کو ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں ایک مرتبہ پھر حکومت کے اس موقف کو دہرایا گیا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی فیصلے میں قومی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔

سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان یمن میں غیر ریاستی عناصر کی طرف سے یمن کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی مذمت کرتا ہے، جب کہ یمن میں لڑائی میں مصروف تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے مسائل پرامن طریقے سے حل کریں۔

سعودی عرب کی قیادت میں اُس کے اتحادی ممالک کی طرف سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کی جانے والی فضائی کارروائیوں کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں سعودی عرب کا دورہ کر کے واپس آنے والے پاکستانی وفد نے اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

خواجہ آصف نے وطن واپسی پر ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع سے ملاقات کے بعد پاکستانی وفد کو یمن کے تنازع اور سعودی حکومت کے تحفظات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی۔

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کے لیے قائم اتحاد میں شمولیت کے لیے سعودی حکومت نے پاکستان سے بھی رابطہ کیا تھا۔

لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے لیے فوجیں بھیجنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی قیادت میں بدھ کو پانچ سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں یمن کی صورت حال اور اس کے پاکستان اور خطے پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا کر تمام صورت حال پر قوم کو اعتماد میں لے۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت یمن اور خطے کی صورت باعث تشویش ہے۔

’’آج صورت حال یہ ہے کہ ہمارے 15 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، تین لاکھ خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ سارے خطے کا استحکام اس وقت خطرے میں ہے۔ اس میں بہت اہم کردار پاکستان کو ضرور ادا کرنا چاہیئے لیکن اُس اہم کردار کا مطلب صرف جھگڑے میں حصہ لینا نہیں بلکہ اُس میں یہ بھی ہے کہ سب کو میز پر بٹھائیں اور اُن سے بات کریں‘‘۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف یہ کہہ چکے ہیں وہ یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اسلامی ممالک کی قیادت سے رابطہ کریں گے تاکہ تنازع کے حل کے لیے راہ تلاش کی جائے۔

XS
SM
MD
LG