رسائی کے لنکس

logo-print

معلومات تک رسائی سے طرز حکمرانی میں شفافیت آئے گی: مبصرین


سینئیر صحافی مطیع اللہ جانکا کہنا تھا کہ اس مجوزہ قانون کی عوامی سطح پر بھرپور تشہیر کرتے ہوئے ضلعی اور یونین کونسل کی سطح تک عوام کی معلومات تک رسائی کو ممکن بنانا لازمی ہے۔

سینٹ کی کمیٹی برائے اطلاعات کی جانب سے معلومات تک رسائی کے قانونی مسودے کو تقریباً چار ماہ قبل حتمی شکل دے دی گئی تھی تاہم ابھی تک اسے پارلیمان میں منظوری کے لیے نہیں پیش کیا گیا۔

کمیٹی کے اراکین کے مطابق اس مجوزہ قانون کی تیاری آئین میں اٹھارویں ترمیم کے تحت کی گئی جس میں پہلی مرتبہ معلومات تک رسائی کے عوام کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

مسودے کے مطابق ہر شخص مطلوبہ سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ حاصل کرسکے گا اور کسی سرکاری افسر کی طرف سے انکار کی صورت میں محتسب کے پاس شکایت بھی کی جا سکے گی۔

سینئیر صحافی مطیع اللہ جان کا اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاکستان میں عوام کی معلومات تک رسائی نا ہونے کے برابر ہے۔

’’صحافی تو آف دی ریکارڈ اور اپنے گمنام ذرائع سے بھی معلومات لے لیتے ہیں۔ پریشان تو عام شہری ہوتا ہے جسے کوئی معلومات نہیں دی جاتی اور جب کسی سرکاری دفتر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جاتا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ قانون کی عوامی سطح پر بھرپور تشہیر کرتے ہوئے ضلعی اور یونین کونسل کی سطح تک عوام کی معلومات تک رسائی کو ممکن بنانا لازمی ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت صرف قومی سلامتی کے امور سے متعلق معلومات تک رسائی ممکن نا ہو گی۔ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق حدود و قیود کا تعین حکومت کے دائرہ اختیار میں ہونا چاہئے نہ کہ کسی ادارے کے۔ مطیع اللہ کہتے ہیں۔

’’نیشنل سیکورٹی عوام کو زیادہ سے زیادہ اطلاعات دینے سے مستحکم ہوتی ہے نا کہ ان سے چھپانے سے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ آج تک پاکستان میں عوام کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ ’’نیشنل سیکورٹی کی تلوار چلا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید عوام نیشنل سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے مطالبے کے باوجود 2011 میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی افواج کے آپریشن سے متعلق عدالتی کمیشن کی تحقیقات کو اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا قومی سلامتی اور مجوزہ قانون سے متعلق کہنا تھا

’’بڑی اور پرانی جمہورتوں میں اس حد تک تحفظ دیا جاتا ہے کہ جو نیشنل سیکورٹی سے متعلق چیزیں ہوتی ہیں۔ اب یہ ضرور سوال پیدا ہوگا کہ نیشنل سیکورٹی کی تعریف آپ کیا کرتے ہیں۔ تو وہ تشریح ہمیں اتنی اچھی کرنی چاہیے کہ کوئی جرم اس کی آڑ میں چھپایا نا جا سکے۔‘‘

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی کے قانونی مسودے کو بہت جلد سینٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ قانون سے سرکاری امور میں شفافیت اور طرز حکرانی میں بڑی حد تک بہتری ممکن ہے۔
XS
SM
MD
LG