رسائی کے لنکس

logo-print

دشمن ایجنسیاں اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالف ہیں: جنرل راحیل


جنرل راحیل نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی ہر صورت تکمیل کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور فوج کے سربراہ اس منصوبے کے تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے ملک میں عدم استحکام میں ملوث ہے۔

منگل کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو جہاں مختلف عالمی طاقتوں نے سراہا ہے وہیں اس خطے میں اثر و رسوخ چاہنے والوں کو یہ منصوبہ ناگوار گزرا ہے۔

"میں بھارت کا تذکرہ کروں گا، ہمارے اس ہمسائے نے کھلے عام اس ترقیاتی پیش رفت کو چیلنج کیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں اس بڑے منصوبے کو ناپسند کر رہی ہیں۔ میں یہاں خاص طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا حوالہ دوں گا جو کہ واضح طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہے۔"

تاہم جنرل راحیل شریف نے واضح طور پر کہا کہ کسی کو بھی پاکستان کے کسی بھی حصے میں گڑبڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی، "لہذا یہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم مزاحمت کو پیچھے چھوڑیں اور تعاون پر توجہ دیں۔"

پاکستان ایک عرصے سے بھارت پر اپنے ہاں خصوصاً بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو تربیت اور مالی وسائل فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا آیا ہے۔

گزشتہ ماہ ہی حکام نے بلوچستان سے ایک مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادوو کو گرفتار کرنے کا بتایا تھا جس کے اعترافی بیان کی وڈیو بھی ذرائع ابلاغ کو دکھائی جس میں وہ "را" سے اپنے تعلق اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تفصیلات بتاتا ہے۔

تاہم بھارت نے کلبھوش کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بھارتی بحریہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے چکا تھا جس کے بعد اس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ نئی دہلی نے اسلام آباد سے کلبھوشن تک سفارتی رسائی کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے جس پر پاکستانی حکام کے مطابق غور کیا جا رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کے لیے امن و خوشحالی کا راستہ ہے۔

انھوں نے اس کی ہر صورت تکمیل کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور فوج کے سربراہ اس منصوبے کے تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔

"ہم اس کے ہر قدم پر گہری نظر رکھیں گے۔ اس مقصد کے لیے 15 ہزار اہلکاروں کی مضبوط فورس پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے۔"

اس موقع پر انھوں نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ ہے جس کے تحت بالآخر دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدعنوانی کے تعلق کو ختم کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG