رسائی کے لنکس

کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں اپنے مفاد میں کر رہے ہیں: وزیر دفاع


 پاکستانی وزیر دفاع خرم دستگیر (فائل فوٹو)
پاکستانی وزیر دفاع خرم دستگیر (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر دفاع نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ ملک میں حافظ سعید سے منسلک بعض فلاحی تنظیموں کے خلاف کیے گئے اقدام بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہیں اور ان کا تعلق امریکہ اور اس کے بعض اتحادی ملکوں کی طرف سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ' ایف ٹی اے ایف' میں پیش کی گئی تحریک سے ہے ۔ جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی سے متعلق فنڈز کی نگرانی سے متعلق فہرست یعنی 'واچ لسٹ' میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خرم دستگیر نے نجی ٹی وی چینل 'ڈان نیوز' کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حالیہ تحریک پاکستان پر ان کے بقول دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ"قوم کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ جو تحریک آرہی ہے اس کا تعلق پاکستان کے اقدامات سے کہیں زیادہ صدر ٹرمپ کی اگست 2017ء کی جنوبی ایشیا کی پالیسی سے ہے اور یہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔"

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہےجن پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

پاکستان کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ایسی تنظیموں کی سرگرمیوں کی بلاتفریق نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے اور رواں ہفتے ہی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے فلاحی اداروں کا کنٹرول محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا تھا۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ حکومت یہ اقدامات جاری رکھے گی جو ان کے بقول قانون کے مطابق ہیں۔

"جو بھی کارروائی ہورہی وہ قانون کے مطابق ہورہی اگر جائیداد منجمد ہوتی ہے تو پہلے کابینہ نے ان قواعدوضوابط کی منظوری دی ہے پھر یہ جائیداد کنٹرول میں لی گئی ہے۔ اور حافظ سعید کا معاملہ بھی قانو ن کے دائرے میں ہوگا ۔"

تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے یہ اقدامات بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ظفر جسپال نے کہا کہ جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان کے بعد امریکی انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف سخت اقدام کرنے کے بیانات سامنے آتے رہے تاہم ان کے بقول اسے پاکستان نے قبول نہیں کیا تھا اس لیے امریکہ پاکستان پر اقتصادی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔

ہفتے کو وائس مریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا " جن ملکوں اور اداروں ، ورلڈ بینگ اور آئی ایم ایف جن کے ساتھ ہمارے تجارتی اور مالیاتی تعلقات ہیں تو امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل ان کی ذریعے پاکستان پر بلواسطہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا مگر یہ کہنا بھی درست ہے کہ اگر پاکستان اس وقت اقدامات کررہا ہے تو اس کی وجہ اگر امریکہ کا دباؤ نہیں بھی ہے تو یقینی طور پر دیگر ملکوں کے تحفظات کو رد نہیں کر سکتا ہے۔"

انہوں نےمزید کہا کہ اگر پاکستان نے حالیہ اقدامات کو جاری رکھا تو وہ برطانیہ ، فرانس اور دیگر ملکوں کو اپنا موقف واضح کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے اسلام آباد پر دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی میں کسی تبدیلی کا امکان کم ہے۔

واضح رہے امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے ابتدائی طور پر پیرس میں قائم بین الحکومتی ادارے 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، یعنی'ایف اے ٹی ایف'میں ایک تحریک پیش کی گئی تھی اور بعد ازاں فرانس اور جرمنی نے بھی اس کے تائید کی جس کے تحت پاکستان کا نام 'ایف اے ٹی ایف' کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG