رسائی کے لنکس

logo-print

بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کا جامع منصوبہ


بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کا جامع منصوبہ

ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو توانائی کے سنگین بحران سے نجات دلانے کے لیے دوارب ڈالر سے زائد لاگت کے ایک جامع منصوبے پر کام کررہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بینک کے کنٹری ڈائریکٹررون سٹرویم Rune Stroemنے کہا کہ اس منصوبے کی کئی جہتیں ہیں جن میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ٹرانسمیشن لائنوں کی ترقی، توانائی کے بہترین استعمال اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

مسٹر سٹرویم کا کہنا تھا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عوام تک اس کی ترسیل کا نظام بہتر بنایا جائے جو ان کے مطابق گذشتہ سالوں کے دوران عدم توجہی کا شکار رہا ہے اور اب اس سلسلے میں حائل رکاوٹیں دور کی جانی چاہئیں۔

بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کا جامع منصوبہ
بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کا جامع منصوبہ

اس سوال پر کہ بینک کے اپنے منصوبوں کی تکمیل کے حوالے کتنی مدت کا تعین کیا ہے، سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت وسیع پروگرام ہے جس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت پاکستان کتنا جلدی اور کتنے مئوثر انداز میں ان پر عمل درآمد کراتی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے توانائی ہی کے شعبے میں اس ہفتے CFLکے نام سے ایک منصوبے میں چار کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت گھریلوصارفین میں تین کروڑکم بجلی خرچ کرنے والے بلب یعنی سیور تقسیم کیے جارہے ہیں۔

منصوبے میں حکومت کی طرف سے بھی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے اور تخمینہ ہے کہ اس سے دباؤ کے اوقات میں بجلی کی مانگ 1100میگاواٹ تک کم ہوسکے گی۔

خیال رہے کہ اس وقت ملک کو تقریباً پانچ ہزار میگاواٹ تک بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے حال ہی میں ایک منصوبے کا اعلان بھی کیا لیکن س کے باوجود طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا قلیل مدتی منصوبہ اگرچہ کسی حد تک دباؤ کو کم کرسکتا ہے لیکن اس سے فوری طور پر عوام کو ریلیف ملنے کی توقع نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG