رسائی کے لنکس

کشمیریوں کو تنازع کے حل میں کردار ادا کرنے دیا جائے: راجہ فاروق

  • روشن مغل

مظفرآباد

وزیر اعظم فاروق حیدر نے کہا ہے کہ ’’اِس وقت دنیا بھارت کی بات سن رہی ہے۔ اگر کشمیر کے منتخب نمائندے دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ رکھیں تو بھارت کے مقابلے میں دنیا ضرور ان کی بات سنے گی‘‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستانی کشمیر کی حکومت کا کردار متعین کیا جائے۔

یہ مطالبہ انہوں یورپ کے 13 روزہ سرکاری دورے کے بعد پیر کے دِن پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت، مظفرآباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات بڑھتے ہیں تو بین الاقوامی برادری تناؤ کم کرانے کے لیے اقدامات شروع کرتی ہے، جس دوران کشمیر میں استصواب رائے کا معاملہ تناؤ میں کمی لانے کے معاملے کی نذر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کشمیریوں کو خود اپنی نمائندگی کرنے کے سوا کشمیر کے تنازع کو عالمی برادری میں پذیرائی حاصل ہو سکتی ہے۔

فاروق حیدر نے کہا کہ ’’اس وقت دنیا بھارت کی بات سن رہی ہے۔ اگر کشمیر کے منتخب نمائندے دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ رکھیں تو بھارت کے مقابلے میں دنیا ضرور ان کی بات سنے گی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی کشمیر کی حکومت کا تنازعہ کشمیر کے بارے میں کردار متعین کیا جائے‘‘۔

واضع رہے کہ وزیر اعظم فاروق حیدر خان مسلم لیگ نواز پاکستانی کشمیر شاخ کے سربراہ بھی ہیں۔ نواز شریف کی برطرفی کے رد عمل میں انکا پاکستانی کشمیر کے الحاق کے بارے میں ایک متنازعہ بیان سامنے آیا تھا، جس میں انہوں کہا تھا، بقول انکے، ’’اگر پاکستان کی سیاسی صورتحال یہی رہی تو کشمیریوں کو سوچنا پڑے گا کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق کریں‘‘۔

ان کے اس بیان پر خاص طور پر پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے لیڈروں نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پیر کے روز مظفرآباد میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں عورتوں کی چوٹیاں کاٹنے کے تسلسل سے جاری واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی دیا اور بھارتی وزیر اعظم مودی کا پتلا اور بھارتی پرچم جلایا۔

ادھر اتوار اور پیر کی درمیانی شب پاکستان اور بھارت کی مسلح افواج کے درمیان حد بندی لکیر کے چکوٹھی اوڑی سیکٹر میں فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔

مارٹرگولوں کی گھن گرج کے باعث سرحدی علاقوں کے مکین خوف و ہراس کا شکار ہو گئے۔

خیال رہے کہ متحارب افواج کے درمیان ایک ایسے وقت گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے جب امریکی وزیر خارجہ، ریکس ٹلرسن پاکستان و بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG