رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین سروے میں شرکت کو یقینی بنائیں


پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین سروے میں شرکت کو یقینی بنائیں

اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن وامان کی خراب صورت حال اور پاکستان میں بہتر ذریعہ معاش کے مواقعوں کے پیش نظر افغان مہاجرین کی اکثریت نے فی الوقت وطن واپس جانے کا ارادہ ملتوی کررکھا ہے۔

ان مہاجرخاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے عارضی کیمپوں سے نکل کر پاکستانی شہروں میں کرائے کے مکانات میں رہائش اختیار کررکھی ہے اور ان میں زیادہ تر ایسے افغان ہیں جو قالین بافی اور دیگر ہنر جانتے ہیں جو ان کی مالی خوشحالی اور کیمپوں میں نہ رہنے کی بڑی وجہ ہے۔

اقوام متحدہ کا ادارہ یواین ایچ سی آر پاکستان حکومت کی ایک سروے میں معاونت کررہا ہے جس کا مقصد ملک میں آباد لاکھوں افغان مہاجرین کے رہن سہن، اُنھیں درپیش مشکلات اور اُن مسائل کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہے جن کی وجہ سے وہ افغانستان واپس جانے سے قاصر ہیں۔

یہ سروے رواں برس اگست میں شروع کیا گیا تھا جو اس سال کے آخر تک جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے والی مقامی تنظیموں کی ٹیمیں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افغان خاندانوں کے انٹرویو کرچکی ہیں جو مہاجرین کی کل آبادی کا پچاس فیصد بنتا ہے۔

پاکستان اتنی بڑی تعداد اور طویل عرصے تک مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سروے کی مدد سے پاکستانی حکومت مہاجرین کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کرسکے گی۔

حکومت پاکستان مخصوص تعداد میں ایسے افغانوں کو ایک خاص مدت تک ملک میں رہنے کی اجازت دینے کے منصبوبے پر بھی غور کررہی ہے جنہیں کاروبار، تعلیم اور محنت مزدوری کے لیے سرکاری پرمٹ جاری کیے جائیں گے۔ مزید برآں ایسے افغان خاندان جو بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر وطن واپس جانے سے گریزاں ہیں بشمول بیواؤں اور بچوں کے انھیں بھی حکومت پاکستان رہائشی اجازت نامے جاری کرے گی۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار پاکستان میں موجود تمام افغانوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سروے میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ سروے ٹیموں کو صحیح اعدادوشمار اکٹھے کرنے میں آسانی ہو۔ اس وقت پاکستان میں سترہ لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جبکہ ایران میں ان کی تعداد لگ بھگ دس لاکھ ہے۔ اس سال اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افغان اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG