رسائی کے لنکس

پاک افغان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پراتفاق


حالیہ برسوں کے دوران پاک افغان باہمی تجارت کا سالانہ حجم دو ارب 70 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنے اور تاجروں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے باہمی رابطوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بات پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے وزارتی سطح کے اجلاس کے بعد طے پانے والے متفقہ اعلامیے میں کہی گئی ہے۔

واضح رہے کہ افغان وزارتِ تجارت کے اعلیٰ سطح کے وفد نے 7 مئی کو پاکستان آمد کے بعد پاکستان کی متعلقہ وزارت کے اعلیٰ حکام سے باہمی تجارت کو فروغ دینے لیے مختلف تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا۔

افغانستان کی صنعت و تجارت کی نائب وزیر کاملہ صدیقی کی قیادت میں افغان وفد نے پاکستان کے سیکرٹری برائے تجارت یونس ڈھاگہ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی۔

پاکستان کے وزارتِ تجارت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق افغان نائب وزیر کاملہ صدیقی اور پاکستان کے سیکرٹری برائے تجارت یونس ڈھاگہ نے دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ تجاویز کے اعلامیے پر دستخط کیے ہیں جن میں دونوں ملکوں کے تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

بیان کے مطابق افغان وفد نے پاکستانی حکام سے پاکستان کو برآمد ہونے والے افغان پھل اور سبزیوں اور دیگر اشیا پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کے معاملے پر بھی بات کی۔

پاکستانی حکام نے افغان وفد کو بتایا کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ پاکستانی حکام نے افغانستان سے پاکستان کو کپاس برآمد کرنے کے لیے بھی سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

بیان کے مطابق افغان وفد نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورۂ کابل کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے افغان برآمدات پر عائد ڈیوٹی کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رواں سال اپریل میں وزیرِ اعظم عباسی کے دورۂ کابل کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں پاک افغان قیادت نے باہمی تجارتی معاملات کو مل کر حل کرنے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملکوں میں پائیدار امن و استحکام اور خوشحالی ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے سیاسی و سفارتی تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران پیدا ہونے والے تناؤ کی وجہ سے دونوں ملکوں کی باہمی تجارت پر بھی منفی اثر پڑا ہے اور حالیہ برسوں کے دوران پاک افغان باہمی تجارت کا سالانہ حجم دو ارب 70 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔

پاک افغان تجارت سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے رابطوں کے وجہ سے دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان رابطوں کو پائیدار بنیادوں پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG