رسائی کے لنکس

کابل حملے میں ملوث ہونے سے متعلق الزام مسترد کرتے ہیں: نفیس ذکریا


ترجمان نفیس ذکریا

پاکستان نے کابل میں ہونے والے بم حملے میں ملوث ہونے سے متعلق افغانستان کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

کابل کے ایک وسطی علاقے وزیر اکبر خان میں بدھ کو ہونے والے مہلک بم دھماکے میں کم ازکم 90 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

یہ دھماکا جس علاقے میں ہوا وہاں غیر ملکی سفارت خانے اور سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔

بم دھماکے کے بعد افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) نے اس کا الزام افغان طالبان کے گروپ حقانی نیٹ ورک پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔

جمعرات کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں افغانستان کے ان الزامات کو رد کیا۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ’’ہم افغانستان کے بے بنیاد الزامات کو رد کرتے ہیں۔‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ الزام تراشی پر مبنی رویہ امن کی کوششوں کے لیے کسی طور مدد گار نہیں ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس جنگ میں اسلام آباد نے بہت قربانیاں دی ہیں۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں کچھ ہوتا ہے تو اُن کے بقول اس کے اثرات پاکستان پر کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض عناصر جن کا افغانستان میں امن و استحکام میں کوئی مفاد نہیں وہ پاکستان کو بدنام کر کے اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان نے کابل میں ہونے والے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

پشاور یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سربراہ اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حقیقی امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

’’میرا خیال ہے وقت کا تقاضہ ہے اور چیزیں بہت دور نہیں گئی ہیں کہ دونوں ملک انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ خیال کریں اور دونوں حکومتی سطح پر آپس میں قریبی رابطہ رکھیں۔‘‘

کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے طرف سے شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان سے یکجتہی کا اظہار کیا گیا تھا۔

افغان حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں جہاں سے یہ گروپ اپنے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

تاہم پاکستان کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی گئی ہے اور پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG