رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور افغانستان میں دو طرفہ تجارت میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟


طورخم کے راستے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بھی 30 فی صد کمی ہو چکی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت ناقص انتظامات اور سرحدی و تجارتی پابندیوں کے باعث شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں ایک طرف تو تجارتی خسارے سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور دوسری طرف پاکستان سے افغانستان سامان لے جانے والے ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے احکامات اور تمام تر کوششوں کے باوجود افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت فروغ نہیں پا رہی جس کی اصل وجہ نہ صرف حال ہی میں عائد کی جانے والی پابندیاں بتائی جا رہی ہیں۔ جب کہ سرحد کے دونوں جانب مختلف سرکاری اداروں کے عملے کی کمی اور سہولیات کا نہ ہونا بھی ہے۔

تاجروں اور کاروباری حلقوں کے مطابق پاکستان کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کا زیادہ تر حصہ اب وسط ایشیا کے ممالک اور ایران منتقل ہو چکا ہے۔ جب کہ طورخم کے راستے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بھی 30 فی صد کمی ہو چکی ہے۔

دونوں ممالک کے عوام کو بھی منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

طورخم سرحد پر سامان سے لدے کنٹینرز اور ٹرک کئی کئی دن تک سڑک کنارے کھڑے رہتے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کو اضافی اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں اور رکاوٹوں کی وجہ سے ایک گھنٹے کا سفر طے کرنے کے لیے پانچ سے چھ دن لگ جاتے ہیں۔

اس سست روی کی وجہ سے ٹرک ڈرائیوروں کو کئی کئی راتیں راستے میں گزارنی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ٹرکوں میں پڑا سامان خراب ہونے کے خدشات بھی ہوتے ہیں۔

قطاروں میں کھڑے رہنے سے ٹرکوں اور ٹرالروں کے ڈرائیور لدھے ہوئے سامان کی حفاظت پر بھی مجبور ہیں۔
قطاروں میں کھڑے رہنے سے ٹرکوں اور ٹرالروں کے ڈرائیور لدھے ہوئے سامان کی حفاظت پر بھی مجبور ہیں۔

پاک افغان سرحدی قصبے لنڈی کوتل میں چیک پوسٹ پر افغانستان جانے والے ڈرائیور صادق خان نے مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ تین دن قبل پشاور سے لنڈی کوتل پہنچے تھے۔ تاہم انہیں تین کلومیٹر پر دور واقع چروازگئی پہنچنے میں مزید دو دن لگے۔ ان کے بقول چروازگئی سے مچینی تک کا فاصلہ محض تین کلومیٹر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکلات دونوں جانب سے ہیں جس کی وجہ سے اُنہیں پشاور سے کابل تک کا سفر اب چھ سے آٹھ گھنٹوں کے بجائے چھ سے آٹھ دن میں طے کرنا پڑتا ہے۔

قطاروں میں کھڑے رہنے سے ٹرکوں اور ٹرالروں کے ڈرائیور نہ صرف لدھے ہوئے سامان کی حفاظت پر مجبور ہیں بلکہ انہیں گاڑیوں کو وقفے وقفے سے آگے لے جانے کے لیے دن رات جاگنا پڑتا ہے۔

ایک اور ڈرائیور فضل تواب کا کہنا تھا کہ مشکلات سرحد کے دونوں جانب ہیں اور سرحد پار افغانستان میں کسٹمز، ٹرانسپورٹ اور سول انتظامیہ نے بھی ایک عجیب اور پیچیدہ طریقہ اپنایا ہے جس کے باعث ان کے بقول انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں کسٹم کا طریقہ کار، پاکستان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک ایک ٹرک کو کئی گھنٹوں کے بعد کلیئر کیا جاتا ہے۔

ان مشکلات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ طورخم میں ابھی تک کسٹم ٹرمینل وغیرہ کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے ان گاڑیوں کو کئی کئی دنوں تک قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔

ڈرائیوروں کے مطابق افغانستان میں کسٹم کا طریقہ کار، پاکستان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک ایک ٹرک کو کئی گھنٹوں کے بعد کلیئر کیا جاتا ہے۔
ڈرائیوروں کے مطابق افغانستان میں کسٹم کا طریقہ کار، پاکستان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک ایک ٹرک کو کئی گھنٹوں کے بعد کلیئر کیا جاتا ہے۔

ان پالسیوں کی وجہ سے دونوں ممالک تجارت میں اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں اور دو طرفہ تجارت میں روز بہ روز کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ان پابندیوں سے قبل 2002 سے 2012 تک کے 10 سال کے عرصے میں پاکستان کے راستے دیگر ممالک سے 33 ارب ڈالر مالیت کے سامان سے لدھے آٹھ لاکھ 32 ہزار کنٹینرز افغانستان گئے۔

گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم کئی ارب امریکی ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 40 کروڈ ڈالر تک محدود ہو گیا ہے۔ 2020 میں پاکستان سے افغانستان برآمدات کا حجم مزید کم ہو کرصرف 36 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے صنعت کے مشترکہ ادارے کے نائب چیئرمین ضیا الحق سرحدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں کمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دراصل دونوں ممالک کے اداروں میں عملے کی کمی اور سہولیات نہ ہونے کے باعث طورخم میں ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے جس کے منفی اثرات دو طرفہ تجارت پر مرتب ہو رہے ہیں اور اس کا فائدہ کوئی اور اٹھا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرز عمل کی وجہ سے اب افغانستان کی صرف 30 فی صد ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان کے راستے کی جاتی ہے۔

ضیا الحق سرحدی کے بقول ماضی قریب میں پاکستان کے راستے افغانستان کے ٹرانزٹ ٹریڈ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آمدن کا اہم ذریعہ تھا۔ مگر سرحدی پابندیوں اور دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کا زیادہ تر حصہ اب ایران اور وسط ایشیائی ممالک کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔

قطاروں میں کھڑے ٹرکوں اور ٹرالروں کے ڈرائیوروں کو وقفے وقفے سے گاڑی آگے لے جانے کے لیے دن رات جاگنا پڑتا ہے۔
قطاروں میں کھڑے ٹرکوں اور ٹرالروں کے ڈرائیوروں کو وقفے وقفے سے گاڑی آگے لے جانے کے لیے دن رات جاگنا پڑتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس مصروف ترین سرحدی گزر گاہ کا انتظام و انصرام ماضی قریب میں قبائلی علاقوں میں رائج نظام کے تخت مقامی انتظامی حکام کے ہاتھوں میں تھا۔

سال 2018 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اب یہاں پر مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کے دفاتر قائم ہو رہے ہیں۔ ان اداروں میں سرِ فہرست پاکستان کسٹمز کا محکمہ ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ طورخم میں کسٹمز کے ٹرمینل پر تعمیراتی کام جاری ہے اور اس کی تکمیل سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں کردار ادا کرنے والے ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کی مشکلات حل ہونے میں مدد ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG