رسائی کے لنکس

'پاکستان کی جوابی کارروائی میں 50 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے'


فائل فوٹو

پاکستان میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دو روز قبل افغانستان کی طرف سے چمن سرحد کے قریب افغان فورسز کی فائرنگ کے ردعمل میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ و گولہ باری سے کم ازکم پچاس افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک اور لگ بھگ ایک سو زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بات اتوار کو فرنٹیئر کور بلوچستان کے سربراہ میجر جنرل ندیم انجم نے چمن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

میجر جنرل ندیم انجم کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان رابطے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ جس مقام پر فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ ہوا وہاں ایک مشترکہ ٹیم بھیج کر واقعے کی تحقیقات اور حد بندی کا تعین کیا جائے گا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن سرحد اتوار کو تیسر ے روز بھی ہر طرح کی تجارتی و غیر تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آنے جانے والوں کے لئے بند رہی۔

دو روز قبل پاک افغان سرحد پر واقع کلی لقمان میں سرحد پار سے افغان فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد سرحدی گزرگاہ "باب دوستی" کو بند کر دیا گیا تھا۔

افغان حکام کا موقف تھا کہ اس علاقے میں مردم شماری کرنے والی پاکستانی ٹیم کے لوگ افغان علاقے میں داخل ہوئے تھے جس پر یہ کارروائی کی گئی تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارکنان پاکستانی حدود میں ہی کام کر رہے تھے۔

میجر جنرل ندیم انجم نے بتایا کہ واقعے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے والا مردم شماری کا سلسلہ بحال کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں کور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے چمن سرحد کے دورے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں سرحد پر پیش آنے والے واقعے کو ایک نادان شرارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائی دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

سرحد پر موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حکام کی اب تک ہونے والی فلیگ میٹنگز بھی بے نتیجہ رہی ہیں لیکن لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے امید کا اظہار کیا کہ ان میٹنگز کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرحد اس وقت تک بند رہے گی جب تکہ افغانستان اپنے طرز عمل پر نظر ثانی نہیں کرتا۔

"میر ا خیال ہے کہ افغان جو لوگ آئے ہوئے ہیں مذاکرات کے لئے اُن کو بھی اس بات کا ادراک اور سمجھ ہو گی کہ بلاوجہ کسی ایک چیز کو متنازع بنانے کی ضرورت نہیں ہے، سر حد اُس وقت تک بند رہے گی جب تک افغانستان اپنے رویے اور طرز عمل کو ٹھیک نہیں کرے گا یہ جو نادان رویہ ہے یہ افغانستان کے حق میں بھی نہیں ہے۔"

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں پانچ افغان پوسٹوں کو تباہ کیا گیا لیکن ان کے بقول افغان بھائیوں کے اس نقصان پر انھیں خوشی تو نہیں تاہم پاکستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کا ایسا ہی جواب دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG