رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان کی سرحد پر’افغانستان عسکریت پسندوں کا حملہ‘


بلوچستان میں مسلم باغ سیکٹر میں سرحد پار سے 70 سے 80 دہشت گرد گھس آئے جن سے سکیورٹی فورسز کا فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ سرحد پار افغانستان سے مشتبہ دہشت گرد بلوچستان کے سرحدی علاقے میں گھس آئے، جن سے سکیورٹی فورسز کا فائرنگ کا تبالہ ہوا اور اس دوران ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

عسکری ذرائع کے مطابق بلوچستان میں مسلم باغ سیکٹر میں سرحد پار سے 70 سے 80 دہشت گرد گھس آئے جن سے سکیورٹی فورسز کا فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

افغان سرحد سے ملحقہ صوبہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں یہ پہلا ایسا واقعہ ہے جب کہ شمال مغرب میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ایسے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

خاص طور پر قبائلی علاقے باجوڑ میں جون کے اواخر اور جولائی کے اوائل میں سرحد پار افغانستان سے دہشت گردوں نے گھس کر سکیورٹی فورسز اور دیہاتوں میں لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

اس دراندازی کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں پر گولہ باری بھی کی جس دوران بعض گولے افغان علاقے میں گرے۔

افغانستان کی طرف سے اس تازہ واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن ماضی میں کابل، اسلام آباد پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستانی علاقوں سے اس کے ہاں گولہ باری کی جاتی ہے۔

پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ وہ صرف سرحد پار سے آنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس دوران ہو سکتا ہے کہ کوئی گولہ افغان علاقے میں جا گرا ہوا۔

سرحد پر دراندازی کے معاملے کو لے کر دونوں ملکوں کے درمیان اکثر تلخ بیانات اور الزامات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

لیکن جمعرات کو پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی کو بتایا تھا کہ سکیورٹی کے معاملات کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کو الزام تراشی کی بجائے مل بیٹھ کر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں کسی بھی طرح کی مداخلت نہ کرنے کی پالیسی اور وہاں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کے عزم پر قائم ہے۔

پاکستانی فوج نے جون کے وسط سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ سیاسی قیادت بھی کابل سے یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے افغان سرحد پر اپنی جانب موثر اور ٹھوس اقدامات کرے۔

XS
SM
MD
LG