رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور افغانستان کا ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کرنے کا فیصلہ


پاکستان کے مشیر خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ "ہم اعتماد سازی کا ایک ماحول بنانا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

پاکستان کے مشیر خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کرنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرتاج عزیز نے جمعہ کو اپنے ایک روزہ دورہ کابل میں صدر اشرف غنی، وزیرخارجہ اور مشیر قومی سلامتی سے ملاقاتیں کی تھیں جن میں دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ دنوں میں در آئی کشیدگی سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "ہم اعتماد سازی کا ایک ماحول بنانا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

گزشتہ سال ستمبر میں اشرف غنی کے افغان منصب صدارت سنبھالنے کے بعد ماضی کی نسبت پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آنا شروع ہوئی تھی اور دوطرفہ اعلیٰ سطحی رابطوں میں بھی اضافہ ہوا تھا۔

لیکن گزشتہ ماہ کے اوائل میں کابل سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کے بعد پہلی مرتبہ افغان صدر نے پاکستان کے لیے قدرے سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے عزم کو پورا کرے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ وہ افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے اور اپنی سرزمین کسی بھی صورت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔

صدر غنی اور دیگر افغان عہدیداروں کی طرف سے پاکستان سے متعلق تنقیدی بیانات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی نے جنم لیا تھا لیکن سرتاج عزیز کے حالیہ دورے سے اس میں کسی قدر کمی دیکھی جا رہی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ اس دورے کے بعد سامنے آنے والے بیانات ایک تعلقات میں بہتری کے ضمن میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہیں۔

"بہتر ہو گا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان رابطے جاری رہیں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہیں وفود کے تبادلے ہوتے رہیں تاکہ یہ جو یکدم پیچیدگی آجاتی ہے، رکاوٹیں سی آجاتی ہیں۔۔۔ مسلسل بات چیت اور مذاکرات سے ہی ممکن ہے ان کو کم کیا جا سکے جو تعلقات میں کشیدگی ہوتی ہے شدت ہوتی ہے، تو میر ے خیال میں یہ دونوں ممالک ، خطے اور باقی ممالک کے مفاد میں ہے۔"

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ نومبر کے اوائل میں افغانستان کے وزیرخزانہ پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں دو طرفہ تجارتی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG