رسائی کے لنکس

logo-print

’افغانستان سے غیر ملکی افواج کا فوری انخلاخطرناک ہوگا‘


کانفرنس کے شرکا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات کے لئے افغانستان میں مداخلت کی بجائے وہاں کی ترقی اور خوشحالی اور خطے کے ستحکام کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

رواں سال کے اواخر میں امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں کی سلامتی و سیاسی صورتحال اور خطے کے ملکوں کے قیام امن سے متعلق کردار پر بحث زور پکڑتی جارہی ہے۔

پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی تعاون کے عنوان پر اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس میں مقررین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری طالبان کی خونریز عسکریت پسندی کی وجہ سے وہاں کی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر غیر ملکی افواج کا فوری انخلا خطے میں بد امنی اور عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔

کانفرنس میں شریک قائداعظم یورنیورسٹی کے پروفیسر سید رفعت حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان مختلف گرپوں کی صورت میں تو بات چیت ہو رہی ہے مگر یہ ملک مل بیٹھ کر افغانستان کے مستقبل سے متعلق حکمت عملی پر کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں کرپائے جو کہ وہاں عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔

’’اصولی طور پر تو سب مداخلت ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن سب کی (مداخلت) ہے، ایران کی بھی ہے، امریکہ اور نیٹو کی سب سے زیادہ ہے تو پھر اس صورتحال میں علاقائی ملکوں کی طرف سے ردعمل آئے گا۔ تو اس عمل اور ردعمل کو کس طرح توڑا جائے یہ افغانستان کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔"

افغان سفارت کار زرداشت شمسی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالیہ صدارتی انتخابات کا کامیاب انعقاد اور عوام کی بڑی تعداد میں اس میں شرکت اس بات کی مظہر ہے کہ افغان جمہوریت پسند اور دہشت گردی کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب خطے کے ممالک کو افغانستان میں جمہوری حکومت کی حمایت کرنا ہوگی۔

’’ہم تو بدقسمتی سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا نشانہ بن گئے ہیں۔ یہ مسئلہ اس خطے کا ہے تو خطے کے ممالک نے اس کا فیصلہ کرنا ہے، اس سے لڑنا ہے۔ اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔‘‘

ایران کے سابق سفارت کار میر محمود موسوی نے افغان پاکستان سرحد اور کشمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے یہاں پائے جانے والے سرحدی تنازعات کا حل نا گزیر ہے۔

’’جس دنیا اور صدی میں ہم رہ رہے ہیں اس میں جب تک انہیں بین الاقوامی سرحدوں کا درجہ نہیں ملتا یہ ممکن نہیں کہ عالمی اور مغربی طاقتیں ان کا حل تلاش کیے بغیر سلامتی کے مسئلے کو ایسے ہی چھوڑ دیں۔‘‘

افغانستان اور بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عزیز احمد خان کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات اور اس جنگجو گروہ کے مفاہمت پسند اراکین کی قومی دھارے میں شرکت سے افغانستان میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے اور اسی سلسلے میں اقوام متحدہ کا کردار بہت اہم ہے۔

’’میرے خیال میں یہ وقت ہے کہ اقوام متحدہ آگے آکر افغانستان سے متعلق فعال کردار ادا کرے۔ اس وقت امریکہ اور نیٹو کی موجودگی کی وجہ سے میرے خیال میں کسی حد تک اسے ایک طرف کردیا گیا ہے لیکن اب اقوام متحدہ کو افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے دوبارہ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔"

پاکستانی مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی پالیسی میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے اور اب افغانستان میں وہ کسی خاص گروہ کی حمایت نہیں کرتا اس لئے اس کے کردار کو اسی پیرائے میں دیکھنا ضروری ہے۔

کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات کے لئے افغانستان میں مداخلت کی بجائے وہاں کی ترقی اور خوشحالی اور خطے کے ستحکام کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔
XS
SM
MD
LG