رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ممنون اور عبداللہ عبداللہ کی دوشنبے میں ملاقات


صدر ممنون نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو کو دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی اور بیان کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے دورے کی دعوت قبول کر لی۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ملاقات ہوئی ہے جس میں خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر بات چیت کی گئی۔

دونوں رہنما ’آبی وسائل اور پائیدار ترقی‘ کے موضوع پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے تاجکستان کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے بدھ کو ملاقات کی۔

صدر ممنون حسین کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستانی صدر نے کہا کہ خطے میں استحکام اور علاقائی ترقی کے لیے افغانستان میں امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قیامِ امن کے لیے پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اعلٰی سطح پر رابطے ضروری ہیں۔

ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے حصول کے لیے افغانستان سے مکمل تعاون کرے گا۔

اُنھوں نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو کو دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی اور بیان کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے دورے کی دعوت قبول کر لی۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عیدالفطر کے موقع پر طالبان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان تین روزہ جنگ بندی اور امن و مصالحت کی کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

صدر ممنون حسین نے جنگ بندی کو افغانستان میں امن کی کوششوں کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف سنجیدہ کوششیں کرے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ عیدالفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اقدام درست سمت میں ایک قدم تھا اور پاکستان اس کی حمایت کرتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

رواں ماہ ہی افغانستان کے صوبہ کنٹر میں امریکی ڈرون حملے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی فضل اللہ کے مارے جانے کی تصدیق کرتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ فضل اللہ کی موت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی پر یقین رکھتا ہے اور اُن کے بقول دہشت گردی کے مشترکہ دشمن کو شکست دینے کے لیے تعاون کی حکمت عملی بہت ضروری ہے۔

صدر اشرف غنی نے عید کے بعد بھی یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں 10 روز کی توسیع کا اعلان کیا تھا جسے بہت سے ممالک بشمول امریکہ اور پاکستان کی طرف سے سراہا گیا تھا۔

لیکن طالبان نے اس پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا اور ایک مرتبہ پھر افغان سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

افغانستان میں تعینات پاکستان کے سابق سفارت کار اور تجزیہ کار ایاز وزیر کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور روابط بہت اہم ہیں جس سے اُن کے بقول بداعتمادی میں کمی آئے گی۔

دریں اثنا پاکستانی فوج نے سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے دو افغان فوجیوں کو افغانستان کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق ہدایت اللہ اور لطیف اللہ کو پاکستان میں داخل ہونے پر فرنٹیر کور نے گرفتار کیا تھا جنہیں بدھ کو بلوچستان کے قصبے چمن میں پاک افغان سرحدی کراسنگ پوائنٹ پر افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان فوجیوں کو خیرسگالی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اُن کے ملک واپس بھیجا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG