رسائی کے لنکس

logo-print

چیلنجز کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا: پاکستانی و افغان قانون ساز


افغان سینیٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے رہا کئے گئے طالبان قیدیوں کی رہائی تاحال قیام امن کی کوششوں کے لیے سود مند نہیں رہی

تین روزہ دورے پر آئے ہوئے افغان قانون سازوں نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستانی سینیٹروں سے مذاکرات میں اقتصادی، تجارتی اور سلامتی کے شعبوں میں درپیش مشترکہ مشکلات پر بات چیت کی اور ان کے حل سے متعلق شرکاء کے بقول تجاویز کا تبادلہ بھی کیا۔

افغان وفد کے سربراہ سینیٹر سید فرخ شاہ جناب نے بات چیت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے جو کہ ان کے باہمی تعلقات میں بہتری میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی جیسے کئی سنگین چیلنجزکا سامنا ہے جن کا حل مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

افغان سینیٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے رہا کئے گئے طالبان قیدیوں کی رہائی تاحال قیام امن کی کوششوں کے لیے سود مند نہیں رہی تاہم سینیئر طالبان کمانڈر ملا غنی برادر کی حالیہ رہائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔

’’ہم سمجھتے ہیں کہ ملا برادر کی رہائی کا انحصار اس کے ذاتی عمل سے ہے۔ اگر وہ افغان مصالحتی عمل میں مدد کرتا ہے تو اس کے شاید اچھے نتائج سامنے آئیں بصورت دیگر ماضی کی طرح اس کے مثبت اثرات نا ہوں گے۔‘‘

پاکستان نے افغان حکومت کی درخواست پر گزشتہ ہفتے ملا غنی برادر کو رہا کیا تھا جبکہ اس سے قبل وہ 33 افغان طالبان جنگجوؤں کو بھی رہا کرچکا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں کسی مخصوص گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کرتا اوران رہائیوں کا مقصد وہاں قیام امن کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

افغان وفد سے مذاکرات میں شامل پاکستانی سینیٹر عبدالنبی بنگش کہتے ہیں کہ دونوں اطراف میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو کہ باہمی تعلقات میں بہتری نہیں چاہتیں اور اپنی کارروائیوں سے وقتاً فوقتاً انہیں سبوتاژ کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔

’’ہماری پالسیوں میں کچھ خامیاں تھیں۔ اعتماد کی بحالی کے لیے اگر ہم خلوص نیت سے کام نہیں لیں گے تو اس کا مطلب ہم اپنے آپ کے ساتھ منافقت کررہے ہیں۔ یہ (دہشت گردی کا) مسئلہ مشترکہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی ایک ہی بیماری اور ایک ہی علاج ہے۔ اگر ہم ایک پیج پر نہیں ہوں گے تو بیماری ختم نہیں ہوگی۔ تو اس سے لڑنے کے لیے ہمیں ایک ہونا ہوگا۔‘‘

آئندہ سال کے اواخر تک افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئے دہشت گردی کے پیش نظر مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری اور مختلف شعبوں میں تعاون نا صرف خطے میں قیام امن کے لیے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔
XS
SM
MD
LG