رسائی کے لنکس

اعتماد سازی کے لیے پاک افغان قیادت میں رابطہ ہونا چاہیئے: آفتاب شیرپاؤ


پاکستان اور افغانستان کے حالیہ تعلقات میں تناؤ کے بارے میں رکن قومی اسمبلی آفتاب شیرپاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوئی ہے۔

افغانستان میں گزشتہ ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملوں نے پہلے سے تناؤ کے شکار پاک افغان تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد ایک مرتبہ افغانستان کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا کہ ایسے حملوں میں ملوث عناصر کی پاکستان میں پناہ گاہیں جہاں وہ ’’آزادانہ طور پر سرگرم ہیں‘‘۔

تاہم پاکستان کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

دوطرفہ تعلقات میں تناؤ کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اُن کا ملک افغانوں کی زیر قیادت امن و مصالحت کی کوششوں کی مدد و حمایت کے عزم پر قائم ہے۔

وزیراعظم نواز شریف عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئیٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہیں۔ اُنھوں نے بدھ کو سوئس حکام سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کا امن و استحکام براہ راست افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف نے بھی ایک روز قبل ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے ایک اجلاس میں سلامتی سے متعلق دیگر اُمور کے علاوہ پاکستان افغانستان تعلقات پر بھی بات کی تھی۔

جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف نے کہا کہ ’’افغانستان ہمارا برادر ملک ہے، ہم افغانستان میں امن و استحکام کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمارا اور افغانستان کا مقدر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔۔۔ میری ذاتی رائے جیسے ہی افغانستان میں استحکام آئے گا، صورت حال میں بہتری آئے گی۔‘‘

پاکستان اور افغانستان کے حالیہ تعلقات میں تناؤ کے بارے میں رکن قومی اسمبلی آفتاب شیرپاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اعتماد سازی کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت کو فوری طور پر براہ راستہ رابطہ کرنا چاہیئے۔

’’کوشش یہ ہی کرنی چاہیئے کہ دونوں ممالک کے تعلقات حکومت کی سطح پر بھی اور عوام کی سطح پر بھی بہتر ہوں اور عدم اعتماد ختم ہو۔۔۔ اس ضمن میں آرمی چیف (جنرل قمر جاوید باجوہ) نے افغان صدر اشرف غنی کو جو فون کیا تھا وہ خوش آئند ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ورنہ بہتری نہیں آئے گی۔‘‘

گزشتہ ہفتے افغان دارالحکومت کابل کے علاوہ قندھار اور ہلمند میں ہونے والے بم دھماکوں میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارت کاروں سمیت 50سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان حملوں کے بعد افغان صدر اشرف غنی سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ الزام تراشی امن کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔

جب کہ رواں ہفتے اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے کے دورے کے موقع پر پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG