رسائی کے لنکس

پولیو وائرس کے خلاف پاک افغان تعاون اہم ہے: سائرہ افضل


وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

پاکستان کی وزیر مملکت برائے ’نیشنل ہیلتھ سروسز‘ سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ اُنھوں نے افغان وزیر صحت سے ملاقات میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر بات کی ہے کیوں کہ اس وائرس سے نجات کے لیے دونوں ممالک میں تعاون اہم ہے۔

اسلام آباد میں منعقد عالمی ادارۂ صحت کی 64 ویں علاقائی کانفرنس کے اختتام پر وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

’’افغانستان کے وزیر صحت فیروز خان سے ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی۔ ہم دونوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ہم مل کر اس (وائرس) سے (دونوں ملکوں کو) نجات دلائیں گے۔۔۔ کیوں میں سمجھتی ہوں کہ ہم دونوں ممالک میں سے کسی ایک ملک میں بھی یہ (وائرس) ختم نہیں ہوا تو پولیو کا دنیا سے خاتمہ نہیں ہو گا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ دو برسوں میں پولیو وائرس کے خلاف کی جانے والی کوششیں سود مند ثابت ہوئی ہیں۔

’’ہم (پولیو وائرس) کے خاتمے کی اپنی منزل کی جانب جا رہے ہیں اور عن قریب اس سے چھٹکارہ پائیں گے۔‘‘

اس سے قبل رواں ہفتے کے اوائل میں عالمی ادارۂ صحت کی علاقائی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں پاکستان کے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ جنگوں اور خونریزی کی وجہ سے پولیو جیسا موذی مرض خطے میں ایک بڑے خطرے کے طور پر ابھرا۔

پاکستان میں رواں سال اب تک اس مرض کے صرف پانچ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

2014ء اس لحاظ سے بدترین سال تھا جس میں ملک بھر میں 306 بچے پولیو وائرس سے متاثر ہوئے تھے جب کہ 2015ء میں 54 اور 2016ء میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 20 تھی۔

پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے پاکستان اور افغانستان سرحدی علاقوں میں مل کر بھی کوشش کرتے رہے ہیں اور اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کے متعلقہ عہدیداروں کے درمیان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشاورت ہوتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سلامتی کے خدشات کے سبب بھی ماضی میں انسدادِ پولیو مہم متاثر رہی کیوں کہ افغان سرحد سے ملحق بعض قبائلی علاقوں میں حکومت کی عملی داری نہ ہونے کے سبب وہاں تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی رسائی نہیں تھی۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیوں کے بعد اب صورت حال میں بہتری آئی ہے اور اُن علاقوں میں بھی کم عمر بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں جہاں پہلے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔

انسانی جسم کو اپاہج کرنے والے پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں میں شامل رضا کاروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ملک کے مختلف حصوں میں جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG