رسائی کے لنکس

وزیرِاعظم کا انسدادِ پولیو مہم کی خود نگرانی کرنے کا اعلان


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی قیادت پاکستان سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ہماری آئندہ نسل کی بقا کا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وہ خود نگرانی کریں گے۔

اُنھوں نے پیر کو اس بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزیر سائرہ افضل تارڑ اور انسدادِ پولیو پروگرام کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق نے بریفنگ دی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی قیادت پاکستان سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

اُنھوں نے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے قائم ’نیشنل ٹاسک فورس‘ کا اجلاس فوری طور پر بلانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وائرس کے خاتمے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، جس میں صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو شامل ہونا ہو گا۔

پاکستان کے علاوہ افغانستان اور نائیجریا دنیا کے تین ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔

پاکستان میں پولیو وائرس کے خلاف کوششیں گزشتہ تین برسوں میں کافی سود مند ثابت ہوئی ہیں اور اس سال اب تک صرف تین پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

حالیہ برسوں میں 2014ء اس لحاظ سے بدترین سال تھا جس میں ملک بھر میں 306 بچے پولیو وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ 2015ء میں 54 اور 2016ء میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 20 تھی۔

اس سال انسدادِ پولیو کی کوششوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کے قبائلی علاقوں سے ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

ماضی میں ان علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔

انسدادِ پولیو کے قومی مرکز کے ایک اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر رانا صفدر نے حال ہی میں وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ ماسوائے کوئٹہ کے ملک کے دیگر حصوں سے حاصل کیے گئے پانی اور دیگر ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی ہے۔

پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے پاکستان اور افغانستان سرحدی علاقوں میں مل کر بھی کوشش کرتے رہے ہیں جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔

سلامتی کے خدشات کے سبب بھی پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم متاثر رہی ہے۔

انسانی جسم کو اپاہج کرنے والے پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں میں شامل رضا کاروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ملک کے مختلف حصوں میں جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں۔

انھی خدشات کے پیش نظر اب انسدادِ پولیو کی مہم کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG