رسائی کے لنکس

logo-print

’قدرتی آفات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘


کانفرنس میں افغانستان، چین، بھارت، ایران، کرغزستان، قازقستان، ترکی اور پاکستان کے نمائندے شریک تھے۔

پاکستانی اور افغان حکام نے کہا ہے کہ قدرتی آفات کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے اس لیے تمام ممالک کو قدرتی آفات سے بچنے، نمٹنے اور نقصانات کو کم سے کم حد تک محدود کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔

دونوں ملکوں کے حکام کا یہ بیان ’ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس‘ کے تحت آٹھ ممالک کے ماہرین کی تین روزہ کانفرنس کے موقع پر سامنے آیا ہے جو جمعے کو اسلام آباد میں ختم ہوئی۔

کانفرنس میں افغانستان، چین، بھارت، ایران، کرغزستان، قازقستان، ترکی اور پاکستان کے نمائندے شریک تھے۔

'ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس' کا مقصد افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے تعاون سے افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال کو بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے میں افغانستان کی مدد کرنا اور رکن ممالک کے درمیان اس شعبے میں تعاون بڑھانا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے 'نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی' (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل عمر محمد حیات نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ تمام ممالک کے درمیان نا گہانی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون نا گزیر ہے۔

"ہمارا خطہ قدرتی آفات سے بہت زیادہ متاثر ہے اور ہر ملک نے اپنے طور پر آفات سے نمٹنے کے لیے نظام وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ قدرتی آفات کسی ایک ملک، کسی ایک جگہ تک محدود نہیں ہوتیں۔"

عمر محمد حیات کا کہنا تھا کہ "آفات سے نمٹنے میں (افغانستان کے ساتھ) ہم جتنا تعاون کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔۔۔ اس سلسلے میں ہم نے افغانستان کو استعدادِ کار بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔‘"

عزت اللہ صدیقی افغانستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق وزارت کے مشیر ہیں اور اُنھوں نے اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں شریک افغان وفد کی قیادت کی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ "جب قدرتی آفت یا ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو وہ نہ تو جغرافیائی اور نہ ہی سیاسی حدود کو دیکھتی ہے۔۔۔۔۔ اس لیے ممالک کے درمیان دوطرفہ اور کثیر الملکی تعاون ضروری ہے۔"

عزت اللہ صدیقی کا کہنا تھا کہ آفات سے نمٹنے کے شعبے سے وابستہ کئی افغان عہدیدار پاکستان میں تربیت حاصل کر چکے ہیں اور "ہم نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بارے میں مستقبل میں تیکنیکی تربیت کے پروگرام کی بھی پیش کش کرے۔"

واضح رہے کہ اس سے قبل اس موضوع پر جنوبی ایشیائی ملکوں کی علاقائی تعاون کی تنظیم 'سارک' کے عہدیداروں کے اجلاس بھی ہوتے رہے ہیں جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر غور کیا جاتا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے مستقبل میں ایسی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک میں سے اگر کسی ایک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کوئی آفت آتی ہے تو اس کے اثرات سے قریبی ملک نہیں بچ سکتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG