رسائی کے لنکس

'انسداد پولیو کے لیے پاکستان اور افغانستان تعاون کریں'


فائل فوٹو

حالیہ سالوں میں پاکستان نے اس وائرس کو روکنے کے لئے خاطر خواہ پیش رفت کی ہے جس کی وجہ سے پولیو واؕئرس سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

عالمی سطح پر پولیو وائرس پر نظر رکھنے والے ٹیکنکل ایڈوائزری گروپ نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

ٹیکنیکل ایڈوائزی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر جین مارک اولیو کی قیادت میں ایک وفد نے حال ہی میں پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی قومی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے وفاقی اور صوبائی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ساتھ افغان عہدیداروں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے پہلی بار پاکستان میں انسداد پولیو سے متعلق ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستان نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے خاطر خواہ پیش رفت کی ہے جس کی وجہ سے پولیو وائرس سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر اولیو نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے معمول کے ویکسینیشن پروگرام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے پولیو کیسز پر نظر رکھی جا سکے۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو وائرس کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والے خاندان ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان اپنے خاندانوں کے ساتھ سفر کرنے کی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

پاکسانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے موثر بنانے کے لئے ان بچوں تک رسائی ایک چیلنج ہے۔

انسداد پولیو کے قومی مرکز کے معاون ڈاکٹر رانا محمد صفدر نےاتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صورت حال کا تدارک دونوں ملکوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

" اب جو وائرس پاکستان میں موجودہے ۔۔۔ اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ یہ اس آبادی کے ساتھ سفر کرتا ہے جو مستقل طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے ۔۔۔ اس لیے ایسے لوگوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جب یہ لوگ سرحد کے آرپار جائیں تو ان کے بارے میں پاکستان اور افغانستان کے انسداد پولیو کے پروگرام سے وابستہ عہدیدار ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا کر اس مسئلے کو حل کریں۔"

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آئندہ ہفتے کے اوائل میں انسداد پولیو سے متعلق پاکستانی عہدیداروں کا ایک وفد افغانستان کا دورہ کرے گا۔

پاکستان افغانستان کے علاوہ نائیجریا کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو اپاہج کر دینے والے بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پور ی طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

ڈاکٹر رانا صفدر نے بتایا کہ 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 306 کیس سامنے آئے جبکہ 2015 میں یہ تعداد کم ہو کر 54 کیسز رہی اور 2016 میں صرف 20 اور رواں سال اب تک پولیو سے متاثرہ صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG