رسائی کے لنکس

حقانی گروپ افغانستان میں ہے، اس کے لیڈر وہاں ہلاک ہوئے: پاکستان


فائل
فائل

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ جولائی سے اب تک حقانی نیٹ ورک کے آٹھ لیڈر افغانستان کی حدود کے اندر افغان اور امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں

افغانستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے لیڈروں کی حالیہ ہلاکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے، پاکستان نے کہا ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دہشت گرد گروپ کو پاکستان میں پناہ دیے جانے کے الزامات غلط ہیں۔

افغان اور امریکی حکام طویل عرصے سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ حقانی گروپ کے جنگجو افغانستان کے اندر جان لیوا حملوں کی منصوبہ بندی پڑوسی ملک پاکستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں کو استعمال کرتے ہیں اور اس کے لیے وہاں کی خفیہ ایجنسی کی مدد حاصل کرتے ہیں۔

پاکستان کی حکومت ان الزامات کو مسلسل رد کرتی رہی ہے۔

جمعرات کے روز پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ جولائی سے اب تک حقانی نیٹ ورک کے آٹھ لیڈر افغانستان کی حدود کے اندر افغان اور امریکی فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں بتایا گیا تھا کہ یہ ہلاکتیں پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں اور افغان کمانڈوز کی کارروائیوں میں واقع ہوئیں۔

امریکہ کا محکمہٴ خارجہ امریکیوں اور اتحادی افواج کے خلاف مہلک حملے کرنے اور القاعدہ سے قریبی رابطے رکھنے پر حقانی نیٹ ورک کو دہشت گروپ گروپ قرار دے چکا ہے۔

پاکستان کے اندر ہلاک کیا جانے والا حقانی گروپ کا واحد لیڈر نصیر الدین حقانی تھا جو گروپ کے مفرور سربراہ کا بڑا بھائی تھا۔

اس کا سب سے چھوٹا بھائی انس حقانی افغانستان کی تحويل میں ہے اور اسے موت کی سزا سنائی جا چکی ہے، جس کے خلاف اس کی جانب سے اپیل دائر کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG