رسائی کے لنکس

logo-print

جہلم: توہین مذہب کے الزام کے بعد فیکٹری کو آگ لگا دی گئی


یہ واقعہ جہلم کے قریب پیش آیا جہاں چِپ بورڈ بنانے والے ایک کارخانے میں قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کی اطلاع علاقے میں پھیلنے کے بعد لوگ یہاں جمع ہو گئے اور کارخانے کو آگ لگا دی۔

پاکستان میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر مشتعل ہجوم نے ایک کارخانے کو آگ لگا دی ہے جب کہ پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت کارخانے کے ایک احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے ملازم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ واقعہ جمعہ کو پنجاب کے شہر جہلم کے قریب پیش آیا جہاں چِپ بورڈ بنانے والے ایک کارخانے میں قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کی اطلاع علاقے میں پھیلنے کے بعد لوگ یہاں جمع ہو گئے اور کارخانے کو آگ لگا دی۔

مقامی پولیس کے مطابق کارخانے کے ایک ملازم نے بتایا کہ قمر احمد طاہر نامی شخص کارخانے کی سکیورٹی کا انچارج تھا جس نے مبینہ طور پر قرآن کے اوراق نذر آتش کرنے کی نہ صرف نگرانی کی بلکہ اس عمل کو روکے جانے پر مداخلت بھی کی۔

پولیس نے ابتدائی طور پر پانچ افراد کو گرفتار کیا جن میں سے چار کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا جب کہ قمر احمد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل ہجوم نے کارخانے اور اس سے ملحق کارخانے کے مالک کے گھر کو بھی آگ لگا دی لیکن یہاں موجود لوگ یہاں سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے اور اس کے کسی بھی واقعے میں قانونی کارروائی سے قبل ہی مشتعل ہجوم کی طرف سے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف انتہائی سنگین کارروائی رونما ہوتی رہی ہیں۔

حالیہ برسوں میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسیحی برادری کے خلاف ہلاکت خیز ردعمل سامنے آچکا ہے جب کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس پر نظر ثانی کرنے کے بیان پر پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور ایک وفاقی وزیر شہباز بھٹی قتل بھی کیے جا چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ توہین مذہب کے مرتکب کسی شخص کو اگر لوگ ذاتی حیثیت میں سزائیں دینا شروع کر دیں تو اس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG