رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائی میں '25 شدت پسند' ہلاک


فوج کی طرف سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ لڑاکا طیاروں کی مدد سے وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کی فوج نے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی کر کے کم ازکم 25 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ لڑاکا طیاروں کی مدد سے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں شدت پسندوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کارروائی میں شدت پسندوں کے زیر استعمال بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والے جانی نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

سکیورٹی فورسز کی طرف سے یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب اتوار کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور اس دوران سکیورٹی اہلکاروں سمیت 19 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ جوابی کارروائی میں 10 شدت پسند بھی مارے گئے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

شدت پسندوں کی طرف سے حالیہ ہفتوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی راولپنڈی کے قریب ایک خودکش حملے میں فوج کے دو افسران سمیت پانچ افراد کو ہلاک کردیا گیا۔

حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن وہ دو ماہ سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار ہے اور اب بظاہر اس کی بحالی کے امکانات نظر نہیں آتے۔

حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ جو شدت پسند عناصر مذاکرات کرنا چاہیں گے ان سے بات کی جائے گی اور دیگر کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

سکیورٹی فورسز نے اس سے قبل بھی حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی کرتے ہوئے متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG