رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائیوں میں 57 شدت پسند ہلاک


فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے پشاور اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے۔

پاکستانی فوج نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے وحشیانہ دہشت گرد حملے کے بعد قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تازہ فضائی کارروائیوں میں 57 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں بدھ کو 20 فضائی کارروائیاں کی گئیں اور اس میں 57 شدت پسند مارے گئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

تازہ فضائی کارروائیوں میں مارے جانے والے مشتبہ دہشت گردوں کی تعداد سے متعلق آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ جہاں یہ آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کو رسائی نہیں۔

فوج نے جون سے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور پھر اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشاور میں فوج کے زیرانتظام اسکول حملے کو شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن "ضرب عضب" کا ردعمل قرار دیتے ہوئے کارروائیاں بند کرنے کا کہا تھا۔

منگل کو پشاور میں ورسک روڈ پر واقع اسکول پر شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 148 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کہہ چکی ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

جنرل راحیل شریف بدھ کو ہنگامی طور پر افغانستان گئے اور وہاں صدر اشرف غنی اور بین الاقوامی اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمپبل سے ملاقات کی اور اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا۔

فوجی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث بہت سے شدت پسند فرار ہو کر سرحد پار افغانستان چلے گئے ہیں جب کہ عہدیداروں کے بقول کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ بھی مشرقی افغانستان میں روپوش ہے۔

XS
SM
MD
LG