رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر اور شمالی وزیرستان میں فضائی کارروائی، 48 'شدت پسند' ہلاک


فوج کی طرف سے جاری بیان کے مطابق تازہ کارروائیوں میں شدت پسندوں کے 12 ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائیوں کے دوران 48 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا کہا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق منگل کو شمالی وزیرستان میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کی گئی کارروائی میں 30 شدت پسند ہلاک ہوئے اور ان کے زیر استعمال نو گاڑیاں اور متعدد موٹرسائیکل تباہ کر دیے گئے۔

اس سے قبل منگل کو علی الصبح شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے سات اور خیبر ایجنسی میں پانچ ٹھکانوں کو فضائی کارروائی میں تباہ کردیا گیا اور یہاں 18 عسکریت پسند مارے گئے۔

پاکستانی فوج نے 15 جون سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف باقاعدہ طور پر بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک 600 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

مرنے والے شدت پسندوں میں متعدد ازبک جنگجو بھی شامل ہیں۔

ضرب عضب نامی فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے بھی شدت پسندوں کے خلاف شمالی وزیرستان اور خیبر میں فضائی کارروائیاں کی گئی تھیں۔

فوجی کارروائی کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے تقریباً چھ لاکھ لوگ نقل مکانی کر کے خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں۔

فوجی کارروائی کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود خصوصاً خیبر پختونخواہ میں تشدد کے واقعات دیکھنے میں آچکے ہیں۔

گزشتہ جمعہ کو کوئٹہ میں فوج کے دو فضائی اڈوں پر کالعدم تحریک طالبان کے جنجگوؤں اور خودکش بمباروں نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے پسپا کرتے ہوئے 10 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فوجی کارروائی "آپریشن ضرب عضب" شروع ہونے کے بعد سے دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیں اور وہ مایوسی کی صورتحال میں ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی یہ کوششیں بے سود رہیں گی اور انھیں ملک میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ملے گی۔

XS
SM
MD
LG