رسائی کے لنکس

این اے 120 کے تمام پولنگ اسٹیشنز حساس قرار


تمام پولنگ اسٹیشنز پر فوج کے اہلکار تعینات ہوں گے (فائل فوٹو)

پاکستان میں لاہور کے حلقہ این اے 120 کے تمام پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیے گئے ہیں اور وہاں سیکیورٹی کے لیے فوج کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں جنہوں نے ان اسٹیشنز کا چارج سنبھال لیا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے باعث خالی ہونےوالی قومی اسمبلی کی نشست این اے120 کے انتخابی معرکے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

روایتی طور پر یہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کا حلقہ ہے جہاں سے نوازشریف ہمیشہ الیکشن جیت کر قومی اسمبلی میں آتے رہے۔

اگر اس حلقے کی تفصیلات دیکھی جائیں تو این اے 120 میں ووٹر کی کل تعداد 3 لاکھ اکیس ہزار سات سو 86 ہے، مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 79 ہزار چھ سو 42 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار ایک سو 44 ہے،

این اے 120 کے اتوار کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے 220 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 103 مردوں جبکہ 98 پولنگ اسٹیشنز خواتین کے لیے ہوں گے۔ حلقے میں انیس پولنگ اسٹیشنز مشترکہ ہوں گے، جہاں کل 573 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔ مردوں کے 312 اور خواتین کے 261 پولنگ بوتھ قائم ہوں گے۔

ضمنی الیکشن کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر کو تین دن کے لیے مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ ان افسران کو یہ اختیارات سولہ، سترہ اور اٹھارہ ستمبر تک حاصل ہوں گے۔ ڈسٹرک ریٹرننگ اور ریٹرننگ افسران انتخابی عمل میں خلل ڈالنے والوں کو موقع پر سزا دے سکیں گے اور انتخابی عمل میں خلل ڈالنے والوں کو قید یا جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

اس حلقے میں ابتدائی طور پر 55 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ تاہم دس نے کاغذات واپس لے لیے جس کے بعد اب 44 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سے اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی بیگم کلثوم نواز اور پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کے درمیان ہی نظر آرہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے فیصل میر جبکہ نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG