رسائی کے لنکس

logo-print

بین الاقوامی ’این جی اوز‘ کو تین ماہ میں نئی رجسٹریشن کرانے کی ہدایت


اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں چھ ماہ کے لیے کام جاری رکھ سکیں گی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے ملک میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں چھ ماہ کے لیے کام جاری رکھ سکیں گی۔

سرکاری بیان کے مطابق بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں اس عرصے کے دوران متعلقہ اداروں کی طرف سے مخصوص شعبے میں کام کی اجازت کے تناظر میں سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔

پاکستان میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ حکومت کے متعلقہ اداروں کے پاس اپنی نئی رجسٹریشن کا عمل تین ماہ میں مکمل کریں۔

اجلاس میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈٓار سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک ضابطہ کار تیار کرنے کے لیے بھی وزیراعظم نواز شریف نے ایک کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی کی سربراہی میں قائم یہ کمیٹی پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے مسودہ قانون اور لائحہ عمل سے متعلق تجاویز پیش کرے گی۔

کمیٹی ملک میں کام کرنے والی ’این جی اوز‘ کی طرف سے مستقبل میں مقامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے اور ان تنظیموں کی نگرانی کے عمل سے متعلق بھی تجاویز دے گی۔

واضح رہے کہ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ’سیوو دی چلڈرن‘ کے اسلام آباد میں دفتر کو گزشتہ ہفتے سیل کر کے اس تنظیم کے تمام غیر ملکی عملے کو 15 روز میں پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔

’سیوو دی چلڈرن‘ سے متعلق الزامات کی واضح طور پر تو وضاحت نہیں کی گئی البتہ یہ کہا گیا کہ وہ اپنے ’چارٹر‘ کے خلاف کام کر رہی تھی۔

تاہم حکومت کے اس فیصلے پر بعض حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

’سیوو دی چلڈرن‘ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس تنظیم سے کوئی بھی غیر ملکی شہری وابستہ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG