رسائی کے لنکس

logo-print

شاہ محمود قریشی کی وائٹ ہاؤس میں جان بولٹن سے ملاقات


پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کی سہ پہر وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے ملاقات کی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور جنوبی ایشیائی خطے کی صورت حال سمیت افغانستان کے تنازع کے پرامن حل پر گفتگو ہوئی۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان کی قیادت میں، افغانستان میں مفاہمت کے عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے افغانستان کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دیرپا استحكام اور ترقی خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔

بیان کے مطابق جنوبی ایشیا میں استحكام کے حصول کے تناظر میں وزیر خارجہ قریشی نے امریکی عہدے دار کو بھارت کے جارحانہ رویے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی امن کی کوشش کے جواب میں بھارت مذاكرات کے لیے تیار ہونے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ قریشی نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع امن مذاكرات اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

دونوں راہنماؤں نے اس پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون علاقائی امن اور جنوبی ایشیا کے استحکام کے مفاد میں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سینیٹ آرمڈ سروسز کے ممبر جیب ریڈ سے ملاقات ۔ 2 اکتوبر 2018
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سینیٹ آرمڈ سروسز کے ممبر جیب ریڈ سے ملاقات ۔ 2 اکتوبر 2018

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی محکمہ خارجہ گئے جہاں ان کی ملاقات امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو سے ہوئی۔ تاہم اس بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل پچھلے مہینے پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سفارتی عہدے داروں کے درمیان ایک ملاقات اسلام آباد میں اس وقت ہوئی تھی جب مائیک پومپیو اور امریکی وزیر دفاع بھارت جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں رکے تھے۔

اسلام آباد کی ملاقات میں امریکی عہدے داروں نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کلیدی مسائل پر کئی برسوں سے جاری کشیدہ تعلقات پر پاکستان میں قائم ہونی والے نئی حکومت کیا سوچ رکھتی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے امریکی سینٹرز کوری بوکر اور لینڈسے گراہم اور ڈیمو کریٹک سینیٹر جیک ریڈ سے بھی ملاقات کی۔

سینیٹر بوکر سینیٹ کی غیرملکی تعلقات سے متعلق کمیٹی کے رکن ہیں ۔ دونوں راہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر بات چیت کی۔

وزیر خارجہ قریشی اتوار کو نیویارک سے واشنگٹن پہنچے تھے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 اجلاس میں 29 ستمبر کو اپنی تقریر میں علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG