رسائی کے لنکس

logo-print

تربیت کاروں کی پاکستان واپسی کی خبر’پوری طرح درست نہیں‘


امریکی محکمہٴ دفاع کے ایک سینئر افسر نے’ وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہےکہ پشاور کے امریکی قونصل خانے میں آئی سیف کے کچھ نئےرابطہ کاریا ’لیژون افسر ‘ ضرور پہنچے ہیں، جِن کا کام پاکستانی فوج سے رابطہ رکھنا ہوگا

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکی فوجی تربیت کاروں کی پاکستان واپسی کی خبر ’’ پوری طرح درست نہیں ہے۔” محکمہ دفاع کے ایک سینئیر افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پشاور کے امریکی قونصل خانے میں آئی سیف کے کچھ نئے رابطہ افسر یا ’’لیازون افسر ” ضرور پہنچے ہیں جن کا کام پاکستانی فوج سے رابطہ رکھنا ہوگا۔

اس سے قبل پاکستانی فوج بھی امریکی تربیت کاروں کی پاکستان واپسی کی خبر کو ’’گمراہ کن” قرار دے کر مسترد کر چکی ہے۔

یہ تنازعہ خبر رساں ادارے رائٹرز کی اس خبر پر اٹھا کہ امریکہ نے ’’مٹھی بھر فوجی تربیت کار پاکستان واپس بھیجے ہیں۔” رائٹرز کی خبر میں کہا گیا تھا کہ امریکی سپیشل فورسز کے دس سے کم اہلکاروں کو پشاور کے قریب ایک تربیّتی مرکز بھیجا گیا ہے جہاں وہ پاکستانی فرنٹئیر کور کو کاؤنٹر انسرجنسی یعنی مسلّح مزاحمت کے خلاف جنگ کے طریقہ کار کی تربیت دیں گے۔

پاکستان نے گزشتہ برس نومبر میں سلالہ کی چیک پوسٹ پر نیٹو اور آئی سیف افواج کے حملے اور نتیجتًا 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان سے امریکی فوج کے زیادہ تر تربیت کاروں کو واپس بھیج دیا تھا۔ واپس جانے والوں میں پشاور سے امریکی فوج کے وہ رابطہ افسر بھی شامل تھے جو پاکستانی فوج کی گیارھویں کور کے ساتھ رابطہ کاری کا کام کرتے تھے۔

سلالہ کے واقعے کے بعد سے پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جن میں حالیہ دنوں میں پاکستان میں نیٹو سپلائی لائنز نہ کھلنے اور اسامہ بن لادن کی شناخت میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 33 سال قید کی سزا ملنے کے بعد مزید بگاڑ پیدا ہوا ہے۔

امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی نے ڈاکٹر آفریدی کی سزا کے جواب میں پاکستان کی امداد میں سے علامتی طور پر 33 ملین ڈالر، یعنی ہر ایک سال کی سزا کے لیے ایک ملین ڈالر، کم کرنے کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا تھا۔ لیکن امریکی بجٹ سے متعلق جس بل میں ترمیم کرنے کے لیے یہ ووٹ دیا گیا تھا اسے ابھی سینٹ کے سامنے پیش ہونا ہے۔

XS
SM
MD
LG