رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان سزائے موت پر عملدرآمد روکے: ایمنسٹی انٹرنیشنل


تنظیم کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی جب انھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا۔

انسانی حققو ق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان سے جیل میں قید سزائے موت کے ایک قیدی کی سزا پرعمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شعیب سرور کو 1998 میں قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور اطلاعات کے مطابق ان کی موت کی سزا پر 18 ستمبر کو عمل درآمد کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔

اگر ان کی سزا پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو 2008 کے بعد وہ پہلے عام قیدی ہوں گے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسیفک کے سربراہ ڈیوڈ گرفتھس نے ایک بیان میں شعیب کی سز ا پر عمل درآمد کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد جولائی 2013 تک صرف دو افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا ۔ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ماسوائے دہشت گردی اور ریاست مخالف جرائم میں ملوث مجرمان کے سزائے موت پانے والے باقی تمام قیدیوں کی پھانسی پر عملدرآمد معطل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت آٹھ ہزار کے قریب سزائے موت کے قیدی ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد ان قیدیوں کی ہے جو اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق ختم کر بیٹھے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت پانے والے قیدیوں میں اکثریت ان افراد کی ہے جنہیں عدالت میں اپنے دفاع کے لیے مناسب قانونی امداد حاصل نہیں ہوتی ہے اور تنظیم کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی جب انھوں نے قتل کا ارتکاب کیا۔

پاکستانی قانون کے مطابق ملک کی ذیلی عدالتوں کے فیصلے کے بعد اگر سپریم کورٹ بھی کسی شخص کی موت کی سزا بحال رکھتی ہے تو وہ سزایافتہ شخص صدر سے رحم کی اپیل کر سکتا ہے۔ شعیب سرور کی اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی حکومت سے سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG