رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی سکھ یاتری پاکستان میں 'لاپتا'


فائل فوٹو

بیساکھی تہوار منانے کے لیے بھارت سے آنے والا سکھ یاتری پاکستان میں لا پتا ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی شہری امر جیت سنگھ بھارت کے شہر امرتسر کے محلہ نرنجن پورہ کا رہنے والا ہے جو 12 اپریل کو خصوصی ریل گاڑی کے ذریعے دیگر سکھ یاتریوں کے ہمراہ واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا تھا۔

امر جیت سنگھ اسی روز خصوصی ریل گاڑی ہی کے ذریعے سکھ عقائد کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے حسن ابدال روانہ ہو گیا تھا اور 15 اپریل کو وہاں ننکانہ صاحب چلا گیا تھا جس کے بعد اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

امرجیت سنگھ کی گمشدگی کا متروکہ وقف املاک کے نمائندوں کو اس وقت پتا چلا جب سکھ یاتری ہفتہ کو خصوصی ریل گاڑیوں کے ذریعے واپس جا رہے تھے اور امر جیت سنگھ اپنا بھارتی پاسپورٹ لینے متروکہ وقف املاک کے دفتر نہیں پہنچا۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری محمد طارق خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امرجیت سنگھ کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو کر دی گئی جس کے ملنے کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی۔

بیساکھی تہوار منانے کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کو واپس لے جانے والی خصوصی ریل گاڑی جب بھارت کے علاقے اٹاری پہنچی تو سکھوں کی گنتی میں دو سکھ یاتری کم ہونے پر پاکستانی حکام سے رابطہ کیا گیا۔ اس پر پاکستانی حکام نے بتایا کہ امر جیت سنگھ لا پتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امرجیت سنگھ کا اپنے گھر والوں سے آخری مرتبہ رابطہ 12 اپریل کو ہوا تھا۔

گنتی میں دوسری کم ہونے والی سکھ یاتری کرن بالا تھیں جنہوں نے پاکستان پہنچ کر اسلام قبول کیا اور محمد اعظم نامی شخص سے شادی کر لی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد کرن بالا کا نیا نام آمنہ بی بی رکھا گیا ہے۔ امر جیت سنگھ اور آمنہ بی بی کے ویزے کی معیاد 21 اپریل کو ختم ہو گئی تھی۔ آمنہ بی بی نے اپنے ویزے کی معیاد بڑھانے کے لیے بھارتی سفارتخانے میں درخواست دے رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG