رسائی کے لنکس

نیب کو رضاکارانہ رقم کی واپسی کا معاملہ اعلیٰ عدالت میں


نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ حکم امتناع کی وجہ سے قومی احتساب بیورو ملزمان سے بقیہ اقساط وصول نہیں کر پا رہے، جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ ایک ہی بار کیس کا فیصلہ کریں گے

قانون کی گرفت میں آنے کے بعد بدعنوانی یا دیگر غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی رقم میں سے کچھ حصہ رضا کارانہ طور پر قومی احتساب بیورو کو واپس کرنے کے معاملے کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے رکھا ہے اور جمعرات کو عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے اس کی سماعت کی۔

عدالت نے رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے پر جاری حکم امتناع واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی، یہ درخواست نیب نے دائر کی تھی۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ حکم امتناع کی وجہ سے قومی احتساب بیورو ملزمان سے بقیہ اقساط وصول نہیں کر پا رہے، جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ ایک ہی بار کیس کا فیصلہ کریں گے۔

کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کی۔

اس موقع پر وفاق نے رضاکارانہ رقم واپسی کے قانون کی مخالفت کر دی، جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے تحریری جواب طلب کر لیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں تبدیلی کا بل سینیٹ میں زیر التوا ہے اور وہ تحریری جواب میں قانون سازی سے متعلق بھی عدالت کو آگاہ کریں گے۔

عدالت نے صوبائی حکومتوں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے بھی جواب طلب کر لیا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ چئیرمین نیب کو رضاکارانہ رقم واپسی کے لامحدود اختیارات دئیے گئے۔

شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ انکوائری شروع ہو تو نیب ملزم کو خط لکھ کر رقم واپسی کا کہتا ہے، ڈھول بجا کر منادی کروائی جاتی ہے کرپشن کرو اور قسطوں میں پیسے واپس کرو۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 5لاکھ کے ملزم کو پندرہ ہزار روپے لے کر چھوڑا جاتا ہے، کیوں نہ اس معاملے ہر چئیرمین نیب کو نوٹس جاری کریں۔

جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب عدالت قانون سازی کا انتظار کرے گی اور خود مقدمے کا فیصلہ کرے گی۔

کیس کی سماعت 8 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے قانون کے مطابق رضاکارانہ واپسی کا آپشن موجود تھا جس کے تحت چئیرمین نیب کی اجازت سے ملزم نیب حکام کے ساتھ بات چیت کر کے لوٹی گئی رقم کا کچھ حصہ جمع کروا سکتا تھا جس کے بعد اس پر بنائے گئے کیسز ختم ہو جاتے تھے۔

تاہم، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس پر حکم امتناع جاری کر رکھا ہے، جس کے بعد رضاکارانہ رقم واپسی ممکن نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG