رسائی کے لنکس

logo-print

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کڑا احتساب ضروری ہے: صدر ممنون حسین


صدر کا کہنا تھا کہ جہاں حکومت کو اپنے طرز حکمرانی سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے وہیں لوگوں کی سوچ اور رویے بدلنے کے لیے معاشرے کو بھی اپنا فرض ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

دنیا بھر کی طرح منگل کو پاکستان میں بھی انسداد بدعنوانی کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد بدعنوانی کے انسانی معاشرے پر تباہ کن اثرات کو اجاگر کر کے اس کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنا ہے۔

اس دن کی مناسبت سے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ کڑے احتساب کے ذریعے ہی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ تمام سماجی طبقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں حکومت کو اپنے طرز حکمرانی سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے وہیں لوگوں کی سوچ اور رویے بدلنے کے لیے معاشرے کو بھی اپنا فرض ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

"معاشرہ ہم وقت بیدار ہے اور لوگ اپنے ارد گرد کسی بدعنوانی میں مبتلا پائیں تو اسے سمجھا بجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کریں۔ کوششوں میں ناکامی ہو تو پھر ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کر دیا جائے یہ بدعنوانی کے خاتمے کا فطری اور آزمودہ طریقہ ہے۔ اس کے بعد حکومت کا کردار شروع ہوتا ہے جو اپنی کارکردگی کو بہتر بنا کر اس برائی کا سدباب کر سکتی ہے۔"

یہ دن ایک ایسے وقت منایا جا رہا ہے جب چند روز قبل ہی بدعنوانی پر نظر رکھنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں گزشتہ سال کی نسبت اس برس پاکستان میں بدعنوانی کی درجہ بندی میں معمولی بہتری کو ظاہر کیا گیا تھا۔

تنظیم کے مطابق 175 ممالک کی فہرست میں پاکستان 29 پوائنٹس کے ساتھ 126 ویں نمبر پر ہے جب کہ گزشتہ برس اس کا نمبر 127 واں تھا۔

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے کے سربراہ قمر زمان چودھری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بدعنوانی کے خلاف رعایت نہ دینے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے ادارے نے غیر قانونی طریقے سے استعمال ہونے والے سرکاری سرمایے میں سے چار ارب روپے کی وصولی کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی اور انسداد بدعنوانی کی کوششیں اس وقت متاثر ہوتی ہیں جب رہنما اور اعلیٰ عہدیدار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے عوامی وسائل کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کے کڑے احتساب سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG