رسائی کے لنکس

logo-print

بہت قربانیاں دیں، مزید کسی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے: ترجمان فوج


فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کے مفادات مقدم ہیں جن کا دفاع کیا جائے گا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا گیا ہے اور اُن کے بقول اس حوالے سے امریکی اور افغان عہدیداروں کے الزامات میں صداقت نہیں ہے۔

اُنھوں نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ حال ہی دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے ’’دھمکی آمیز‘‘ بیان بھی سامنے آیا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں ’’ہم نے کافی کیا ہے اور ہم کسی کے لیے مزید کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستانی وزارت خارجہ اپنے ملک کا موقف امریکہ کے سامنے رکھ چکے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ 2014 میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے قبل حقانی نیٹ ورک کی موجودگی سے متعلق الزامات لگائے جا سکتے تھے لیکن اُن کے بقول شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد تمام دہشت گردوں بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی گئی۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کے مفادات مقدم ہیں جن کا دفاع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ افغانستان کے اپنے غیر اعلانیہ دورے کے موقع پر امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے بگرام کے ہوائی اڈے پر امریکی فوجیوں سے خطاب میں متنبہ کیاتھا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی جاری رکھی تو وہ بہت کچھ کھو دے گا۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ایک دوسرے کو تنبیہ یا نوٹس جاری نہیں کرتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی سیکیورٹی پالیسی میں بھی پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ طویل المدت تعلقات کے لیے مشترکہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور وزیر دفاع جم میٹس بھی پاکستان کے دورے کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG