رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی تنظیم کا رکن اغوا


تاحال اس واقعے کے محرکات سامنے نہیں آ سکے ہیں اور مقامی پولیس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ معاملے کی تحقیقات اور مغوی کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین کی تنظیم کے ایک اہم عہدیدار کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

آرمی پبلک اسکول شہدا و غازی فورم کے رابطہ کار قیصر علی ہفتہ کو اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ مردان سے پشاور آ رہے تھے کہ موٹر وے پر نوشہرہ کی حدود میں نامعلوم مسلح افراد نے انھیں اغوا کر لیا۔

قیصر علی کے رشتے داروں کے بقول ایک سفید رنگ کی کار میں سوار افراد نے قیصر کی گاڑی کو روکا اور اسلحے کی نوک پر زبردستی انھیں اپنے ساتھ لے گئے جب کہ ان کے بھائی کو وہیں چھوڑ گئے۔

تاحال اس واقعے کے محرکات سامنے نہیں آ سکے ہیں اور مقامی پولیس نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ معاملے کی تحقیقات اور مغوی کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

گزشتہ سال 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کر کے یہاں 134 بچوں سمیت 150 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ملکی تاریخ کے اس بدترین دہشت گرد واقعے میں ہلاک و زخمی ہونے والے بچوں کے خاندانوں نے اپنی ایک نمائندہ تنظیم بنا رکھی ہے جو ان کے مسائل کے لیے مختلف فورمز پر آواز بلند کرتی آ رہی ہے۔

دہشت گرد حملے کے بعد حکومت کی طرف سے مرنے والے بچوں کے لیے اعزازات اور ان کے لواحقین کے اعانت کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن پھر بھی بعض معاملات پر یہ خاندان تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج بھی کرتے دکھائی دیے ہیں۔

قیصر علی اس تنظیم کے ایک بلند آہنگ رکن ہیں جو اکثر حکام خاصی تنقید کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG