رسائی کے لنکس

logo-print

فوج کے حق میں بینرز لگانے والی جماعت کا صدر گرفتار


فائل فوٹو

فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ فوج کے سربراہ کے حوالے سے بینرز سے فوج یا اس کے کسی بھی شعبے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں رواں ماہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے حق میں بینرز آویزاں کرنے والی جماعت کے سربراہ میاں کامران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ بینرز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی تصاویر کے ساتھ آویزاں کیے گئے تھے جن پر درج تھا کہ ’’جانے کی باتیں ہوئیں پرانی، خدا کے لیے اب آجاؤ۔‘‘

یہ کام ایک غیر معروف سیاسی جماعت ’’موو آن پاکستان‘‘ کی طرف سے کیا گیا تھا۔

فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ فوج کے سربراہ کے حوالے سے بینرز سے فوج یا اس کے کسی بھی شعبے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

فوج کے سربراہ کے حق میں اس طرح کی تشہیر کے بعد ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا اور مختلف حلقوں کی طرف سے ’’موو آن پاکستان‘‘ کی قیادت کے خلاف کارروائی کے مطالبات بھی کیے گئے۔

جب کہ ’’موو آن پاکستان‘‘ کے صدر میاں کامران اور اُن کے دیگر ساتھیوں کے خلاف اسلام آباد کے ایک تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا جس میں اُن پر موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام عائد کیے گئے۔

ملک کے کچھ دیگر شہروں میں بھی ’’موو آن پاکستان‘‘ کی قیادت کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

مقدمات کے اندارج کے بعد جنرل راحیل شریف کے حق میں آویزاں بینرز اتار دیئے گئے۔

XS
SM
MD
LG