رسائی کے لنکس

logo-print

’قربانیوں کے باوجود علاقائی امن میں کردار ادا کرتے رہیں گے‘


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کے باوجود پاکستان قومی اور علاقائی امن میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملوں کے چار سال مکمل ہونے پر جاری اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ16 دسمبر ہمیں ایک سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے اور سانحہ اے پی ایس میں بچھڑ جانے والوں کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی کیونکہ انھوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر قوم کو سفاک دشمن کے خلاف متحد کیا۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے تعلیم بہترین ہتھیار ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو انتہا پسندی اور فرقہ واریت، مذہب، زبان، رنگ، نسل اور کسی بھی وجہ سے تشدد سے پاک معاشرہ بنائیں گے۔

دوسری جانب پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہداء کے بہادر والدین کو سلام پیش کرتے ہیں۔ قوم نے بہادری سے چیلنجز کا مقابلہ کیا ۔ ہمیں متحد و پرعزم ہو کر پاکستان کو امن کی حقیقی منزل تک لے جانا ہے ۔

چار سال قبل 16 دسمبر 2014ء کو کیے جانے والے اس حملے میں 134 طلبہ سمیت ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔

اے پی ایس سانحہ، کیا عدالتی کمیشن والدین کا واحد سہارا
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:41 0:00

آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پاکستان کی عسکری اور سویلین قیادت نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا تھا جبکہ اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعہ دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

ادھر پاکستان کے آرمی چیف نے جنرل قمر باجود نے سکیورٹی فورسز اور تعلیمی اداروں پر حملوں میں ملوث 15 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے جبکہ 20 دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

اتوار کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں پر خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولا بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے مجموعی طور پر 2 عام شہریوں اور 32 سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ردالفساد
آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے جہاں نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا وہیں فوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ فوجی نے فروری 2017 میں آپریشن ردالفساد شروع کیا جو تاحال جاری ہے۔

نیشنل ایکشن پلان یا انسداد دہشت گردی کا 20 نکاتی قومی لائحہ عمل میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، نفرت انگیز مواد کی تشہیر، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال، صوبوں کے مابین معلومات کا تبادلہ اور نیکٹا کو فعال کرنے سمیت مختلف نکات شامل تھے۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اور سیکورٹی اداروں کی طرف سے ملک بھر میں کی جانے والی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی۔

تاہم، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو پوری طرح ختم کرنے کے لیے قومی لائحہٴ عمل کے تمام نکات پر مؤثر اور پائیدار عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کا جوڈیشیل کمیشن
مئی 2018ء کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے رواں سال اپریل میں سپریم کورٹ کی پشاور رجسٹری کے دورے کے دوران آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے متاثرین کے احتجاج اور تحقیقاتی عمل سے متعلق تحفظات پر معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG