رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل راحیل نے سات دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی


سزائے موت پانے والے دہشت گردوں میں سے چھ ’دہشت گرد‘ گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں ملوث تھے۔

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے سات دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے جمعرات کی شام ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ سزائے موت پانے والے دہشت گردوں میں سے چھ گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے جب کہ ایک 2011ء میں کراچی کے علاقے صفورا چورنگی میں رینجرز اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملے میں ملوث تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے ایک بیان میں جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق سزائے موت پانے والے پانچ مجرموں کا تعلق توحید والجہاد نامی گروپ سے ہے جن میں مجیب الرحمن، حضرت علی، سبیل عرف یحییٰ، مولوی عبدالسلام، عتیق الرحمن عرف عثمان جب کہ ایک مجرم تاج محمد عرف رضوان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور یہ تمام پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے علاوہ سکیورٹی فورسز، پولیس اور سرکاری تنصیبات پر ہلاکت خیز حملوں میں ملوث پائے گئے۔

سزائے موت کے ساتوں مجرم کا نام فرحان عرف علی ہے اور اس کا تعلق جیش محمد سے بتایا گیا۔ یہ مجرم 2011ء میں کراچی میں رینجرز پر دیسی ساختہ بم حملے میں ملوث تھا جس میں تین رینجرز اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بیان کے مطابق کفایت اللہ عرف کیف قاری نامی مجرم کا تعلق توحید والجہاد سے ہے اور اسے بھی ایسے ہی الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

فوج کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کی کارروائی تمام تر قانونی تقاضوں کے مطابق شفاف انداز میں کی گئی اور مجرموں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔ یہ مجرم اپنی سزاؤں کے خلاف اپیل کے لیے مخصوص عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

آرمی پبلک اسکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کا بدترین ہلاکت خیز واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس حملے کے بعد نہ صرف حکومت نے سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی اٹھاتے ہوئے مجرموں کو پھانسی دینے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا بلکہ آئین میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے دہشت گردی کے مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی تھیں۔

وکلا کی بعض تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا لیکن رواں ماہ ہی عدالت عظمیٰ نے ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان فوجی عدالتوں کو برقرار رکھا۔

ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جن سے جمعرات کو سنائی گئی سزاؤں سے قبل چھ دیگر مجرموں کو موت اور ایک کو عمر قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG