رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل راحیل کی قطری قیادت سے افغان مصالحتی عمل پر بات چیت


جنرل راحیل شریف کی قطر کی قیادت سے ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے علاوہ افغان طالبان کے قطر میں قائم دفتر کے ذریعے افغان مصالحتی عمل پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پیر کو قطر کا ایک روزہ دورہ کیا، جہاں اُنھوں نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے علاوہ وہاں کی عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔

فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر اپنے پیغامات کے ذریعے بتایا کہ جنرل راحیل شریف کی قطر کی قیادت سے ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے علاوہ قطر دفتر کے ذریعے افغان مصالحتی عمل پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

واضح رہے کہ افغان طالبان کا سیاسی دفتر قطر میں ہے اور طالبان قیادت اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ صرف قطر دفتر ہی سیاسی مذاکرات کے انعقاد کا مجاز ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ کے دورے کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کی بحالی کے سلسلے میں چار ملکی اجلاس منگل کو کابل میں ہونے جا رہا ہے، اور اس اجلاس سے محض ایک روز قبل جنرل راحیل کی قطر کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں اہم تصور کی جا رہی ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں چار ملکی گروپ کے تیسرے اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات فروری کے اواخر میں کروانے کی کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ کے نمائندوں پر مشتمل چار فریقی گروپ کا چوتھا اجلاس 23 فروری کو کابل میں ہونے جا رہا ہے۔

کابل میں ہونے والے چار فریقی اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تاریخ کے تعین سے متعلق پیش رفت متوقع ہے۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ واضح تو نہیں کہ طالبان کب تک مذاکرات کی میز پر آئیں گے لیکن اس بارے میں اُن کے بقول کوششیں تو ہو رہی ہیں۔

’’پاکستان یا قطر (طالبان) پر دباؤ ڈالیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بات چیت میں شرکت کے لیے رضا مند ہو جائیں گے۔۔۔۔ لیکن نا ہی قطر اتنا دباؤ ڈالے گا یا ڈال سکتا اور نا ہی پاکستان اتنا دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے نتائج اُن مذاکرات سے حاصل کروا لیں۔‘‘

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست ملاقات گزشتہ سال جولائی میں اسلام آباد کے قریب سیاحتی مقام مری میں ہوئی تھی۔ ان مذاکرات کی میزبانی پاکستان نے تھی جس میں امریکہ اور چین کے نمائندوں نے بطور مبصر شرکت کی تھی۔

بات چیت کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہونا تھا لیکن طے شدہ تاریخ سے قبل ہی طالبان کے رہنما ملا عمر کی موت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد یہ عمل معطل ہو گیا تھا۔

طالبان کے سربراہ ملا عمر کا انتقال اگرچہ 2013ء میں ہو چکا تھا لیکن طالبان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے مصلحت کی بنا پر اس خبر کو چھپا رکھا تھا۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کی بحالی میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اسی سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کابل کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان، امریکہ اور چین تینوں ممالک طالبان سے مذاکرات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG