رسائی کے لنکس

جنرل راحیل نے چھ دہشت گردوں کے ’ڈیتھ وارنٹ‘ پر دستخط کر دیئے


جنرل راحیل شریف (فائل فوٹو)
جنرل راحیل شریف (فائل فوٹو)

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان میں 2009ء میں راولپنڈی میں واقع فوج کے صدر دفتر "جی ایچ کیو" پر حملے کا مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان بھی شامل ہے۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل کی طرف سے سزائے موت پانے والے چھ دہشت گردوں کے بلیک وارنٹ (موت کے پروانے) پر دستخط کے بعد سزا پر عملدرآمد کے لیے انتظامات کیے جا چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مجرموں کو پھانسی دیے جانے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری بیان میں ان دہشت گردوں کے نام نہیں بتائے گئے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان میں 2009ء میں راولپنڈی میں واقع فوج کے صدر دفتر "جی ایچ کیو" پر حملے کا مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان بھی شامل ہے۔

ان دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

جی ایچ کیو پر دس دہشت گردوں نے 10 اکتوبر 2009ء کو حملہ کیا تھا اور اس واقعے میں ایک بریگیڈیئر سمیت کم ازکم 11 فوجی اہلکار مارے گئے جب کہ نو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بعض شائع شدہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عثمان سے اس کے رشتے داروں کی آخری ملاقات کروانے کے انتظامات بھی کر لیے گئے اور اسے ہفتہ کو علی الصبح فیصل آباد سنٹرل جیل میں پھانسی دی جا سکتی ہے۔

منگل کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 148 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

پشاور حملے کے بعد ہی وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد پر چھ سال سے عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والوں کی سزاؤں پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

اس اعلان کے بعد ملک کی مختلف جیلوں پھانسی دیے جانے کے انتظامات شروع ہو گئے جب کہ متعلقہ حکام اس بارے میں قانون کارروائی مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سزائے موت پر عملدرآمد کرنے کے فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے جب کہ حکومتی عہدیداروں کے علاوہ عمومی رائے فی الوقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔

حکمران مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وزیراعظم کے فیصلے کا ایک بار پھر دفاع کیا۔

"سزائیں جو ہوتی ہیں وہ کسی کو تکلیف پہنچانے کے لیے نہیں ہوتیں یہ جرائم کو روکنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں قانون کی دہشت نہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم جو بھی کر لیں کوئی ہمارا کچھ نہیں کرسکتا۔"

ادھر مرنے والوں کی یاد میں دعائیہ تقاریب کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا اور ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں نے ریلیاں نکالیں اور مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جاتی رہیں۔

مزید برآں اسکول پر حملے کے واقعے کے بعد ملک کے لگ بھگ سب ہی تعلیمی اداروں میں تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG