رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل باجوہ سلامتی کے امور پر سینیٹ کو آگاہ کریں گے


جنرل قمر جاوید باجوہ (فائل فوٹو)

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ملک اور خطے کی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے لیے سینیٹ کو بریفنگ دیں گے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق جنرل باجوہ منگل کو ہول ہاؤس کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں یہ بریفنگ دیں اور اس میں فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا بھی موجود ہوں گے۔

جمعہ کو ہی ایوان بالا کے قانون سازوں کی طرف سے سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت سے متعلق ایک بار پھر سوال اٹھایا گیا تھا۔

سینیٹرز کی طرف سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ سعودی زیر قیادت فوجی اتحاد کے ضوابط اور جنرل باجوہ کے دورہ ایران کے بارے میں انھیں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔

جنرل باجوہ خطے کی صورتحال سمیت امریکہ کے ساتھ تعلقات اور اس کی موجودہ صورتحال سے متعلق قانون سازوں کو فوج کے نکتہ نظر سے آگاہ کرنے کے علاوہ اپنے دورہ ایران کے بارے میں قانون سازوں کو بتائیں گے۔

قانون سازوں کی طرف سے اس سے قبل بھی فوج سے پارلیمان کو سلامتی کے امور سمیت مختلف امور پر آگاہ کرنے کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی امور کے رکن سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس بنا پر کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ فوجی قیادت نے پارلیمان میں آنے کی بجائے قانون سازوں کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفاتر جی ایچ کیو مدعو کیا تھا۔

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اور فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود جنرل باجوہ کی طرف سے پارلیمان میں آکر قانون سازوں کو بریفنگ دینے کے فیصلے کو ایک احسن قدم قرار دیتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ اعلیٰ عسکری عہدیدار سینیٹ میں پیش ہو کر سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔

ان کے بقول اداروں کے درمیان اس طرح خیالات کا تبادلہ ان کے درمیان اختلافات کو پیدا ہونے سے روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور یہ عمل جاری رہنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG