رسائی کے لنکس

میں نے کبھی غیر ذمہ دارانہ یا غیر آئینی رویہ نہیں اپنایا: سعد رفیق


فائل

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ’’سعد رفیق کا بیان غیر ارادی نہیں بلکہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے‘‘، جبکہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ’’میں ایک ذمہ دار اور سنجیدہ شخص ہوں اور کبھی غیر ذمہ دارانہ یا غیر آئینی رویہ نہیں اپنایا‘‘۔

سعد رفیق نے مزید کہا کہ ’’میجر جنرل آصف غفور مثبت آدمی ہیں۔ اس لیے ان کے رد عمل پر دلی دکھ ہوا ہے۔‘‘

راولپنڈی میں ہونے والی ڈی جی آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ سینیٹ اجلاس کے بعد سعد رفیق نے کہا کہ آرمی چیف نے جمہوریت کے حوالے سے مثبت پیغام دیا۔ تاہم، آرمی چیف کا حکم ماننے والے بھی اس کو دیکھیں جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’’خواجہ سعد رفیق کا بیان غیرارادی نہیں بلکہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے‘‘۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ’’پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے اور آرمی چیف کے ایک اشارے پر پوری فوج وہاں دیکھنا شروع ہو جاتی ہے جہاں وہ چاہتے ہیں۔ آرمی چیف کے حکم پر ہم قربانیاں دے رہے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو ہر کوئی اپنی مرضی سے کام کرنا شروع کردے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’کچھ ادارے ایسے ہیں جن کو آئین ہی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لہذا، ایسا بیان نہیں آنا چاہیے جو آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ہر آدمی کی ذمہ داری ہے کہ آئین اور قانون کا احترام کرے اور اس کے دائرے میں رہے۔ اگر ایسی لائن چھیڑیں گے تو بہت سے ارتعاش پیدا ہوں گے‘‘۔

اس سوال پر کہ نواز شریف اور مریم نواز مسلسل اپنے خلاف چلنے والے مقدمات کے پیچھے سازش کا اشارہ دے رہے ہیں اور اس میں پاک فوج کو سازشی قرار دے رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک سیاسی سوال ہے اور اس پر خاموش ہی رہیں گے۔ تاہم اگر کوئی سازش ہے تو انہیں اس کا ثبوت سامنے لانا چاہئیے‘‘۔

دوسری جانب، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ’’والدِ محترم کی برسی پر میری ساری تقریر قومی اداروں کے مابین ہم آہنگی، مفاہمت اور متحد ہو کرملک کے لئے کام کرنے کا بیانیہ ہے۔ لیکن، میری تقریر کے بعد مخصوص چینلز نے میری بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کیا جبکہ27 منٹ طویل تقریر بالائے طاق رکھ کر چند الفاظ پر رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہے‘‘۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ میں ریاستی اداروں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے خاموش کردار ادا کرتا رہتا ہوں، جبکہ ریاستی اداروں کے مابین فاصلے اور غلط فہمیاں پیدا کرنے والے ملک سے زیادتی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں شکایات پیدا ہوتی ہیں تو اسے خاموشی سے متعلقہ اتھارٹی کو مطلع کرتے ہیں یا پھر اسے جذب کرلیتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم تدبر، فراست اور باہمی اتحاد ہی سے آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔

حالیہ عرصہ میں فوج اور حکومت کے مابین تلخیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور ڈان لیکس کے بعد دبے الفاظ میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اس حوالے سے سخت بیانات دیتی رہی ہیں، جبکہ ان کے زیرنگرانی چلنے والا سوشل میڈیا سیل بھی اس قسم کے اختلافی بیانات کو بڑھاوا دینے کا باعث بنتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG