رسائی کے لنکس

logo-print

نیپال میں امدادی کارروائیوں میں پاکستانی ٹیمیں بھی شامل


منگل کو دو ’سی 130‘ طیاروں کے ذریعے مزید امدادی سامان نیپال بجھوایا گیا اور واپسی پر نیپال سے 59 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔

پاکستانی فوج کی امدادی ٹیموں نے نیپال میں زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں میں سے ایک بختہپور میں کام شروع کر دیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق منگل کو دو ’سی 130‘ طیاروں کے ذریعے مزید امدادی سامان نیپال بجھوایا گیا اور واپسی پر نیپال سے 59 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا۔

زلزلے کے فوراً بعد ہی پاکستان نے نیپال میں سامان اور امدادی ٹیمیں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

گزشتہ اتوار کو نیپال میں امدادی سامان لے کر جانے والے جہازوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے 30 سے زائد پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کی طرف سے تیس بستروں کا ایک اسپتال، خصوصی ٹیمیں اور سامان کٹھمنڈو بجھوایا جا چکا ہے۔

نیپال میں 7.8 شدت کے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4300 سے زائد ہو چکی ہے جب کہ نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے 80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک کی طرف سے نیپال میں زلزلہ متاثرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اُدھر منگل کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی۔

نیپال میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان کے شمال مغرب میں زلزلے کے جھٹکوں سے لوگ خوفزدہ ہو گئے اور اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔

زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، سوات اور دیر کے علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔

لیکن درمیانی شدت کے اس زلزلے سے کسی طرح کے جانی و مالی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

پاکستان کو بھی تباہ کن زلزلوں کا سامنا رہا ہے، 2013ء میں ملک کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں 7.7 شدت کے زلزلے سے 500 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن سب سے تباہ کن زلزلہ 2005ء میں آیا جس سے ملک کے بالائی علاقوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 73 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG