رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات کرنا 'پاگل پن' ہے: آصف غفور


میجر جنرل آصف غفور (فائل فوٹو)

پاکستان فوج کے ترجمان نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں جنگ روکنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان کے بقول ان ہتھیاروں کے استعمال کی بات کرنا 'پاگل پن' ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے یہ بات روسی خبر رساں ادارے سپوٹنک سے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اب ہم ایسے ہی جوہری ملک ہیں جیسا کہ بھارت 1998ء میں جوہری ملک بن کر سامنے آیا۔ ہمارا موقف ہے کہ یہ صلاحیت دونوں ملکوں کے درمیان روایتی جنگ کے امکان کو ختم کر دیتی ہے، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ روکنے کا ہتھیار ہے۔ کوئی بھی باشعور ایسی صلاحیت کو استعمال کرنے کی بات نہیں کر سکتا ہے۔ "

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان کے بقول اگرچہ ملک کا دفاع نہایت اہمیت کی بات ہے لیکن جوہری ہتھیاروں کی استعمال کی بات کرنا " پاگل پن" ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات اس صورت میں کرے گا اگر بھارت میں ایسا ہی کرے۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ "پاکستان ہر وہ چیز کرنے پر تیار ہے جو برابری پر مبنی ہو۔ آپ پاکستان کے ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلی چھٹی نہیں دے سکتے۔ جو کچھ بھی ہو وہ دونوں ملکوں کیے لیے ہونا چاہیئے۔ "

پاکستان اور روس کا تعاون

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اسپوٹنک کو بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی بات ہو رہی ہے جو ان کے بقول مثبت ہے جس میں ایوی ایشن، فضائی دفاعی نظام اور ٹینک شکن میزائل کے حصول شامل ہیں۔

ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ خاص طور پر کن چیزوں کے حصول پر بات چیت ہو رہی ہے۔ آصف غفور نے کہا " کسی بھی چیز کو خارج قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ، ہر وہ چیز جس کا خریدنا پاکستان کے لیے ممکن ہو (بات چیت میں) شامل ہے۔"

انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت حالیہ کشیدگی کو کم کرانے میں روس کے کردار کا خیر مقدم کرے گا۔

"ہم کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کا خیر مقدم کریں گے جس سے خطے میں امن آئے اور روس کا بھی خیر مقدم کریں گے۔"

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان تنازع کے تصفیے کے لیے روس کے کردار اہم ہے اور خطے میں جاری عمل میں روس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی میں ایف-16​ طیاروں کے مبینہ استعمال کا معاملہ

پاکستانی فوج کے ترجمان نے پاکستان نے فروری کے اواخر میں بھارت کا جنگی طیارہ مار گرانے میں ایف-16 طیارے کو استعمال کرنے کے بھارت کے دعوے کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ کارروائی میں چین اور پاکستان کے اشتراک سے بنائے جانے والے جے ایف ـ17 تھنڈر طیاروں کو استعمال کیا۔

انھوں نے کہا کہ "جہاں تک ایف-16 طیاروں کو استعمال کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ معاملہ اب پاکستان اور امریکہ کو دیکھنا ہے کہ کس حد تک ایف-16 طیاروں سے متعلق مفاہمت کی یاداشتوں کی پابندی کی گئی یا نہیں۔"

آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے دوستانہ تعلقات ہیں اور اسلام آباد جے ایف-17 طیاروں کے استعمال کی بابت امریکہ سے بات کر رہا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے جائز دفاع کے لیے وہ چیز استعمال کرے گا جسے یہ ضروری خیال کرے گا۔

رواں ماہ کے اوائل میں بھارت کی طرف سے پاک بھارت کشیدگی کے دوران فروری کے اواخر میں پاکستان کی طرف سے ایف-16 طیاروں کے استعمال کے دعوے کے بعد امریکہ کے دفتر خارجہ کے معاون ترجمان نے کہا تھا کہ واشنگٹن اس معاملے کا جائزہ لے رہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں اور رابطوں سے متعلق کھلے عام بات نہیں کرتے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک حملے کے بعد جنوبی ایشیا کے دونوں حریف جوہری ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جس کے بعد امریکہ چین سمیت کئی دیگر ملکوں نے صورتحال کو بہتر کرنے میں کردار ادا کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG