رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان میں 'ضرب عضب' کے آخری مرحلے کے آغاز


شوال کے جنگلات اور کھائیاں اور دتہ خیل کے آگے کا علاقہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ ہے اور عسکریت پسند اسی علاقے کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن "ضرب عضب" کا آخری مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

بدھ کو انھوں نے افغان سرحد سے ملحقہ پہاڑوں اور جنگلات میں گھرے علاقے شوال کا دورہ کیا اور فوجی آپریشن میں مصروف اہلکاروں سے ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جنرل راحیل کو بتایا گیا کہ شوال کے جنگلات اور کھائیاں اور دتہ خیل کے آگے کا علاقہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ ہے اور عسکریت پسند اسی علاقے کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

جنرل راحیل نے یہاں ان کے باقی ماندہ ٹھکانوں کو خالی کروانے اور ملک بھر میں ان کے معاونین سے رابطوں کو بلاتفریق بند کرنے کے لیے آپریشن کا آخری مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت کی۔

انھوں نے ضرب عضب میں اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں اور اس میں سکیورٹی فورسز کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے بچے کچھے ٹھکانوں سے بھی مکمل طور پر ختم کرنے کے پاکستانی فوج کے عزم کا اعادہ کیا۔

شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014ء کو بھرپور فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا اور اس میں اب تک 3400 ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک، ان کے سیکڑوں ٹھکانوں اور کمانڈ و کنٹرول مراکز کو تباہ کرنے کا بتایا گیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث ملک میں ماضی کی نسبت دہشت گرد واقعات میں نمایاں کمی تو دیکھنے میں آئی لیکن اب بھی شدت پسند ملک کے مختلف حصوں میں مہلک کارروائیاں کرتے آرہے ہیں جو حکام کے بقول سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل ہے۔

XS
SM
MD
LG