رسائی کے لنکس

logo-print

کیا فوج حکومتی کام اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے؟


پاکستانی فوج کے ترجمان نے 29 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملک بھر کے دینی مدارس کو وزارت تعلیم کے تحت لایا جا رہا ہے۔

پاکستان کی فوج نے ملک میں مدارس ریفارمز اور کالعدم تنظیموں کو مرکزی دھارے میں لانے کی بات کی ہے، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے فوج کے اس بیان کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج کا یہ کام نہیں ہے۔ تمام اداروں کو اپنی حدود و قیود میں رہنا چاہیئے۔ کیا پاکستان میں فوج واقعی حکومت کے کرنے کے کام اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے؟

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 29 اپریل کو راول پنڈی جی ایچ کیو میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ملک میں موجود مدارس کو مرکزی دھارے میں لایا جائے گا۔ اب مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کر کے ان میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔

خورشید شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کہتے ہیں کہ اگر عمران خان حکومت ناکام ہو گئی ہو اور گورننس کے مسائل ہوں تب بھی یہ فوج کا کام نہیں کہ وہ ان معاملات میں دخل اندازی کرے۔

مولانا فضل الرحمن، جمعیت علمائے اسلام (ف)

اس سلسلے میں سب سے سخت رد عمل گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کی طرف سے آیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس پریس کانفرنس سے یہ ثابت ہو گیا کہ طاقت کا محور جی ایچ کیو ہے۔ تمام فیصلے وہیں ہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نمائشی ہے جسے اس قابل بھی نہیں سمجھا گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اپنا موقف پیش کرے۔

حکومت کی کارکردگی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی ناقص کارکردگی بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ فوج کو بہت سے معاملات میں براہ راست مداخلت کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومت اپنی وزارتوں میں کوئی بہتری نہیں لا سکی۔ معیشت کا حال برا ہونے کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

تجزیہ کار شاہد اقبال کامران

پروفیسر شاہد اقبال کامران کہتے ہیں کہ اس وقت تشویش اس وجہ سے ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح کے بہت سے چیلنجز درپیش ہیں لیکن حکومتی رد عمل اس طرح کا نہیں ہے، جس کی وجہ سے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب

پاکستان کی فوج کے مدارس اور منظور پشتین کے معاملے میں براہ راست آنے پر دفاعی تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ مدارس کا معاملہ براہ راست سیکورٹی سے منسلک ہے۔ ماضی میں بعض مدارس کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جب کہ پی ٹی ایم کا معاملہ بھی سیکورٹی سے منسلک ہے۔ پاکستانی فوج نے چھ ہزار جانیں گنوائی ہیں اور آج وردی پر دہشت گردی کا الزام لگایا جا رہا ہے جو کسی طور درست نہیں۔

پاکستانی فوج کی جانب سے بعض حکومتی معاملات میں شامل ہونے پر حکومت کی طرف سے براہ راست کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت موجودہ صورت حال کی مکمل تائید کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG