رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی سے نمٹنا جنرل باجوہ کے لیے بڑا چیلنج ہو گا


پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین شیخ روحیل اصغر کہتے ہیں کہ عسکری قیادت کی تبدیلی سے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں سمیت کسی بھی پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی فوج کی کمان ایک ایسے وقت سنھبالی جب کشمیر میں ’لائن آف کنٹرول‘ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان بدستور کشیدگی موجود ہے اور آئے روز دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

عسکری قیادت کی تبدیلی پر پاکستان میں عام لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل قمر باجوہ کے لیے اندرون ملک دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے علاوہ ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانا اولین ترجیحات میں شامل ہو گا۔

دہشت گردی سے نمٹنا جنرل باجوہ کے لیے بڑا چیلنج ہو گا
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:33 0:00

اسلام آباد کے رہائشی ڈاکٹر عادل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی توقع ہے کہ پاکستانی فوج کے نئے سربراہ اُس کام کو مکمل کریں گے جس کا آغاز اُن کے پیش رو نے کیا تھا۔

ایک اور شہری اسد خان کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا بلا تفریق خاتمہ جنرل قمر باجوہ کی ترجیح ہونی چاہیئے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین شیخ روحیل اصغر کہتے ہیں کہ عسکری قیادت کی تبدیلی سے دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں سمیت کسی بھی پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اُن کے بقول آپریشن ضرب عضب کو جاری رکھنا اور پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی تکمیل کے لیے سکیورٹی کی فراہمی فوج کی اہم ذمہ داری ہے۔

پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد ضروری ہے اور اُن کے بقول یہ اُسی صورت ممکن ہے جب سیاسی قیادت فوج سے تعاون کرے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین سالوں میں دہشت گردوں کے خلاف ’آپریشن ضرب عضب‘ کے آغاز کے علاوہ فوج کی قیادت میں ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی رہی ہیں اور عہدیداروں کے مطابق ان کارروائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG